Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3839

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ حَرَامٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اَلْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِيْ يُصِيْبُهُ الْقَيْءُ لَهٗ أَجْرُ شَهِيْدٍ، وَالْغَرِيْقُ لَهٗ أَجْرُ شَهِيْدَيْنِ"رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُد.

وعن أم حرام عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "المائد في البحر الذي يصيبه القيء له أجر شهيد، والغريق له أجر شهيدين"رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام حرام سے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا دریا میں چکرانے والا جسے قے آتی ہے اسے ایک شہید کا ثواب ہے ۲؎اور ڈوب جانے والے کو دو شہیدوں کا ثواب ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ام حرام بنت ملحان ابن خالد نجاریہ ہیں،ام سلیم کی بہن،حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے ہی گھر میں قیلولہ(دوپہر کا آرام)فرماتے تھے،حضرت عبادہ ابن صامت کی زوجہ ہیں،حضرت انس کی خالہ،خلافت عثمانیہ میں اپنے خاوند کے ساتھ روم کے جہاد میں شریک ہوئیں اسی میں شہید ہوئیں،قبرص میں قبر شریف ہے،آپ کا نام معلوم نہ ہوسکا۔(مرقات،اشعہ)
۲
؎یعنی جو حج یا عمرہ یا جہاد یا تجارت کے لیے دریا کا سفر کرے اور اس میں چکرائے،قے کرے اگرچہ زندہ نکل جائے جب بھی اسے شہید کا ثواب ہے،ناجائز یا غیرضروری سمندری سفر کا یہ حکم نہیں اور یہ ثواب جب ہے جب کہ سوا سمندری رستہ کے کوئی اور راستہ نہ ہو۔یعنی مجبورًا یہ سفر کرے۔
۳
؎ایک ثواب اس کی مشقت اٹھانے کا دوسرا ثواب ڈوب جانے کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3839