- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3833
باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3833
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 3787
- 3788
- 3789
- 3790
- 3791
- 3792
- 3793
- 3794
- 3795
- 3796
- 3797
- 3798
- 3799
- 3800
- 3801
- 3802
- 3803
- 3804
- 3805
- 3806
- 3807
- 3808
- 3809
- 3810
- 3811
- 3812
- 3813
- 3814
- 3815
- 3816
- 3817
- 3818
- 3819
- 3820
- 3821
- 3822
- 3823
- 3824
- 3825
- 3826
- 3827
- 3828
- 3829
- 3830
- 3831
- 3832
- 3833
- 3834
- 3835
- 3836
- 3837
- 3838
- 3839
- 3840
- 3841
- 3842
- 3843
- 3844
- 3845
- 3846
- 3847
- 3848
- 3849
- 3850
- 3851
- 3852
- 3853
- 3854
- 3855
- 3856
- 3857
- 3858
- 3859
- 3860
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حُبْشِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "طُوْلُ الْقِيَامِ" قِيْلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "جُهْدُ الْمُقِلِّ" قِيْلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ" قِيْلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِيْنَ بِمَالِهٖ وَنَفْسِهٖ، قِيْلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ: "مَنْ أُهْرِيْقَ دَمُهٗ، وَعُقِرَ جَوَادُهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
وَفِيْ رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "إِيْمانٌ لَا شكَّ فِيْهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُوْلَ فِيْهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُوْرَةٌ" قِيْلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "طُوْلُ الْقُنُوْتِ". ثُمَّ اتَّفَقَا فِي الْبَاقِيْ.
وعن عبد الله بن حبشي: أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل أي الأعمال أفضل؟ قال: "طول القيام" قيل: فأي الصدقة أفضل؟ قال: "جهد المقل" قيل: فأي الهجرة أفضل؟ قال: "من هجر ما حرم الله عليه" قيل: فأي الجهاد أفضل؟ قال: "من جاهد المشركين بماله ونفسه، قيل: فأي القتل أشرف؟ قال: "من أهريق دمه، وعقر جواده". رواه أبو داود.
وفي رواية النسائي: أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل: أي الأعمال أفضل؟ قال: "إيمان لا شك فيه، وجهاد لا غلول فيه، وحجة مبرورة" قيل: فأي الصلاة أفضل؟ قال: "طول القنوت". ثم اتفقا في الباقي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدﷲابن حبشی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے ۱؎فرمایا دراز قیام۲؎عرض کیا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا فقیر کی طاقت۳؎عرض کیا گیا کون سی ہجرت افضل ہے۴؎فرمایا اس کی جو ان سب چیزوں کو چھوڑ دے جوﷲنے اس پر حرام کیں۵؎عرض کیا گیا کون سا جہاد افضل ہے فرمایا اس کا جو کفار پر اپنے مال و جان سے کرے ۶؎عرض کیا گیا کہ کون سا قتل اشرف ہے فرمایا جس کا خون بہا دیا جائے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں ۷؎ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل بہترین ہے، فرمایا وہ ایمان جس میں تردد نہ ہو ۸؎اور وہ جہاد جس میں خیانت نہ ہو ۹؎اور پاکیزہ حج،عرض کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے ۱۰؎فرمایا دراز قیام پھر باقی حدیث میں وہ دونوں متفق ہوگئے ۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی نماز کے اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے۔
۲؎بعض لحاظ سے نماز میں دراز قیام افضل ہے کہ اس میں مشقت زیادہ تلاوت قرآن بہت ہے اور بعض لحاظ سے دراز سجدہ افضل ہے کہ اس میں اظہار عجز زیادہ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔بعض علماء نے فرمایا کہ رات کے نوافل تہجد وغیرہ میں لمبا قیام افضل ہے اور دن کے نوافل اشراق چاشت وغیرہ میں زیادہ سجدے افضل ہیں،یہ بہرحال حدیث میں تعارض نہیں اس کی کچھ بحث مرآۃ جلد اولکتاب الایمانمیں گزرچکی ہے۔
۳؎جھدجیم کے پیشہکے سکون سے بمعنی طاقت و قوت اورمقلاقلالسے بنا،بمعنی کم کرنا اور فقیر ہوجانا اس کا مادہقللہے بمعنی کمی اس سے ہے قلت۔ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ غریب آدمی مشقت سے پیسہ کمائے پھر اس میں سے خیرات کرے۔دوسرے یہ کہ فقیر کو خود بھی ضرورت ہو خود مشقت وتکلیف میں ہو اس کے باوجود اپنی ضرورت روک کر خیرات کرے دوسرے کی ضرورت کو مقدم رکھے، مگر یہ دوسرے معنی اس فقیر کے لیے ہوں گے جو خود صابر ہو اور اکیلا ہو بال بچے نہ رکھتا ہو ورنہ آج خیرات کرکے کل خود بھیک مانگنا یوں ہی بال بچوں کے حقوق مارکر خیرات کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ (مرقات) ہاں اگر کسی کے بال بچے بھی حضرت ابوبکر صدیق کے گھر والوں کی طرح صابر ہوں پھر وہ جناب صدیق کی طرح خیرات کردے تو یہ اس کی خصوصیت ہے،سلطان عشق کے فیصلے عقل سے وراء ہیں۔شعر
موسیا آداب دانا دیگراند سوختہ جان در داناں دیگراند
۴؎بمعنی ہجرت(چھوڑنا)کی بہت سی قسمیں ہیں:وطن چھوڑنا،گناہ چھوڑنا،بُرے خیالات چھوڑنا وغیرہ ان میں سے اعلیٰ درجہ کی ہجرت کون سی ہے۔
۵؎سبحان اﷲ!کیسا پیارا جواب ہے گناہ چھوڑنے کی ہجرت وطن چھوڑنے کی ہجرت سے اعلیٰ ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ یہ ترک گناہ کی ہجرت ہمیشہ ہر مسلمان کو میسر آسکتی ہے۔اس کی شرحکتاب الایمانمیں گزر چکی۔
۶؎یعنی جہاد کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے اعلیٰ قسم کا جہاد یہ ہے کہ مجاہد اپنی جان و مال سب کچھ راہ خدا میں خرچ کرکے جہاد کرے کیونکہ یہ جہاد نفس پر بہت گراں ہے۔خیال رہے کہ یہ افضلیت اضافی ہےایک اعتبار سے اور بعض حالات میں یہ جہاد افضل اور دوسرے اعتبار سے خصوصی حالات میں ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہہ دینی افضل ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا کہافضل الجھاد کلمۃ حق عندسلطان جائر۔
۷؎یعنی راہ خدا کا وہ شہید اعلیٰ درجہ کا شہید ہے جو میدانِ جہاد میں جان و مال سب قربان کردے کہ خود بھی جان دے دے،گھوڑا بھی ہلاک ہوجائے،چونکہ اس کی قربانی دوگنی ہے،نیز اس نے بڑے معرکہ کا جہاد کیا لہذا اس کی شہادت بھی اعلیٰ قرار پائی۔أھریقکیہزائدہ ہے اصل میںاریقتھا۔مرقات نے فرمایا کہ گھوڑے کی ہلاکت سے اس کی شجاعت و بہادری کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایسا جانباز اور بہادر تھا کہ بغیر گھوڑے کے پاؤں کٹے دشمن کے قابو میں نہ آیا اس کا ٹھکانہ جنت الفردوس میں ہے۔
۸؎ایمان کو عمل میں داخل فرمایا کیونکہ ایمان یقین دل کا نام ہے،یہ دل کا عمل ہے،تردد نہ ہونے کے معنی یہ ہیں رنج و خوشی تنگی و فراخی حال میں اسلام سے نہ پھرے،دنیا کی کوئی حالت اس کے قلب کی حالت نہ بدل سکے۔ایک وقت حضرت حسین حضور کے کندھے پر سوار ہیں اور ایک وقت ظالم قاتل شمر آپ کے سینے پرانوار پر سوار ہے مگر دونوں حال میں قلب کا حال یکساں ہے،اس فرمان کی اور شرحیں بھی کی گئی۔
۹؎اسی طرح کہ غنیمت میں خیانت کرے تقسیم سے پہلے امیر کے حوالہ ساری غنیمت کردے،پھر تقسیم میں اسے جو حصہ ملے اسے بخوشی قبول کرے۔
۱۰؎حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں گناہ سے بچا جائے یا وہ حج جس میں ریا و نام و نمود سے پرہیز ہو یا وہ حج جس کے بعد حاجی مرتے وقت تک گناہوں سے بچے،حج برباد کرنے والا کوئی عمل نہ کرے۔ خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ حج مقبول وہ ہے جس کے بعد حاجی دنیا میں زاہد آخرت میں راغب رہے،یا حج مبرور وہ ہے جو حاجی کا دل نرم کردےکہ اس کے دل میں سوز،آنکھوں میں تری رہے،حج کرنا آسان ہے حج سنبھالنا مشکل ہے۔
۱۱؎خیال رہے کہ افضل اعمال کے بیان میں احادیث مختلف ہیں،کسی حدیث میں کسی عمل کو افضل فرمایا گیا ہے کسی میں دوسرے عمل کو،یہ اختلاف حالات کے لحاظ سے ہوتا ہے کہ کبھی جہاد افضل اور کبھی نماز اعلیٰ پھر نماز میں کبھی زیادہ سجدے افضل اور کبھی دراز قیام بہتر۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3833