Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3790

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَا تَطِيْبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوْا عَنِّيْ وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، مَا تَخَلَّفْتُّ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُوْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَوَدِدْتُ أَنْ أُقتَلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، ثُمَّ أُحْيَى ثُمَّ أُقتَلُ، ثُمَّ أُحْيَى ثُمَّ أُقتَلُ، ثُمَّ أُحْيَى ثُمَّ أُقْتَلُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "والذي نفسي بيده لولا أن رجالا من المؤمنين لا تطيب أنفسهم أن يتخلفوا عني ولا أجد ما أحملهم عليه، ما تخلفت عن سرية تغزو في سبيل الله، والذي نفسي بيده لوددت أن أقتل في سبيل الله، ثم أحيى ثم أقتل، ثم أحيى ثم أقتل، ثم أحيى ثم أقتل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر یہ مجبوری نہ ہوتی کہ مسلمان لوگوں کے دل خوش نہیں ہوتے مجھ سے پیچھے رہ جانے سے ۱؎اور ہم اتنی سواریاں پاتے نہیں جو ان سب کو دیں ۲؎تو ہم کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے ۳؎اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں پسند کرتا ہوں کہکی راہ میں قتل کیا جاؤں پھرزندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیاجاؤں ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی غریب و فقیر مسلمانوں کے دل نہیں چاہتے کہ بے سواری ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ جہاد میں نہ جائیں گھر بیٹھے رہیں کیا،تمہیں خبر نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ایک جہاد میں تشریف لے گئے تھے، حضرت طلحہ ٹھیک دوپہر کی تیز دھوپ میں سفر سے مدینہ منورہ اپنے باغ میں پہنچے جہاں وہ کھانا،پانی،ٹھنڈا سایہ ان کے منتظر تھے مگر جب سنا کہ حضور غزوۂ تبوک میں گئے ہوئے ہیں سواری سے نہ اترے،اس طرف سواری ہانک دی رضی اللہ عنہ،فرمایا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہکے محبوب تپتی ریت میں ہوں اور میں گھنے درختوں کے سایہ میں ہوں۔
۲
؎یعنی ہمارے پاس اتنی سواریاں ہی نہیں کہ ہر جہاد میں ہم سب مسلمانوں کو ان پر سوار کرکے جہاد کے میدان میں پہنچادیں وہ پیچھے رہ جانے پر راضی نہیں سب کو ساتھ لے جانے کا موقع نہیں۔
۳
؎سریہ وہ چھوٹا لشکر ہے جس میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف نہ لے جائیں یعنی اگر یہ دشواری نہ ہوتی تو ہم کسی معمولی اور بڑے لشکر کے پیچھے نہ رہتے ہر لشکر کے ساتھ جاتے ہر جہاد میں شریک ہوتے۔معلوم ہوا کہ جہاد عمومًا فرض کفایہ ہوتا ہے کبھی فرض عین۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے امت پر بڑے رحیم وکریم ہیں کہ مساکین کے رنج وغم کا لحاظ فرماکر کبھی جہاد جیسے مرغوب چیز کو چھوڑدیتے، حضور نے امت کی تکلیف کا لحاظ فرماتے ہوئے بہت سی عبادات نہ کیں جیسے ہمیشہ تراویح اور تہائی رات گزارنے پر نماز عشاء وغیرہ۔
۴
؎اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے:کہ راہ خدا میں شہادت بڑی اعلیٰ عبادت ہے کہ حضور انور بار بار شہادت پانے کی تمنا فرماتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ناممکن نیکی کی تمنا بھی ثواب ہے رب تعالٰی نے خبر دے دی تھی کہ کوئی کافر حضور کو شہید نہ کرسکے گا"وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ"یہ بھی خبر دی ہے کہ بعد موت کوئی دنیا میں واپس نہ آئے گاانھم لا یرجعون۔ان خبروں سے معلوم ہو چکا تھا کہ حضور کی شہادت ناممکن ہے اور بار بار دنیا میں آنا شہید ہونا بھی محال ہے مگر حضور اس کی تمنا آرزو کرتے رہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ تمنا ثواب ہے امید صرف ممکن کی ہوسکتی ہے مگر آرزو تمنا ہرممکن اور ناممکن چیز کی جاسکتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3790