Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3791

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "رِبَاطُ يَوْمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن سهل بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےکی راہ میں ایک دن گھوڑا باندھنا ۲؎دنیا اور جو دنیا پر ہے اس سے بہترہے ۳؎(مسلم ، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات بار ہا بیان ہوچکے ہیں کہ آپ سہل ابن سعد ساعدی انصاری ہیں،پہلے آپ کا نام حزن تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بدل کر سہل رکھا،کنیت ابوالعباس ہے،حضور کی وفات کے وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی،آپ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی، ۹۱ھ؁ ∞ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی ہیں جن کی وفات سب سے آخری میں ہوئی۔
۲
؎رباطرکے کسرہ اور ضمہ کےربطسے بنا ہے بمعنی باندھنا اس لیے بندھے گھوڑے کو خیل مربوط کہتے ہیں،قرآن کریم فرماتاہے: "وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الْخَیۡلِ"۔شریعت میں بہ نیت جہاد گھوڑا پالنے کو بھی کہتے ہیں اور اسلامی سرحد،باڈر پر کفار کے مقابل رہنے کو بھی جب کہ سرحد پر ہر وقت خطرہ ہو اور یہ مقابلہ کفار کے لیے ہر وقت وہاں تیار رہے یہاںرباطکے معنی دونوں بن سکتے ہیں۔
۳
؎یہ حدیث مختلف عبارتوں سے آئی ہے۔چنانچہ احمد نے حضرت عبدابن عمرو سے روایت کی ہے کہ ایک دن کا رباط ایک ماہ کے روزہ رات کی عبادت سے افضل ہے۔طبرانی نے حضرت ابوداؤد سے روایت کی ایک ماہ کارباط ہمیشہ کی روزی سے افضل ہے،جو مرابط ہو کر مرے گا وہ قیامت کی گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا اور برزخ میں اسے صبح شام روزی جنت کی ہوا ملے گی قیامت تک اسے ثواب ملتا رہے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3791