Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3854

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اَلْمُؤْمِنُوْنَ فِي الدُّنْيَا عَلٰى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ: الَّذِيْنَ آمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجَاهَدُوْا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، وَالَّذِيْ يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلٰى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ الَّذِيْ إِذَا أَشْرَفَ عَلٰى طَمَعٍ تَرَكَهٗ لِلّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ" رَوَاهُ أَحْمدُ.

وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "المؤمنون في الدنيا على ثلاثة أجزاء: الذين آمنوا بالله ورسوله ثم لم يرتابوا وجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله، والذي يأمنه الناس على أموالهم وأنفسهم، ثم الذي إذا أشرف على طمع تركه لله عز وجل" رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دنیا میں مؤمن تین قسم کے ہیں ۱؎ایک وہ جوکے رسول پر ایمان لائیں پھر شک نہ کریں۲؎اورکی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں۳؎اور وہ جس سے لوگ اپنے مالوں ا ور اپنی جانوں پر امن میں ہوں۴؎پھر وہ کہ جب وہ طمع کے قریب پہنچے تو اسےعزوجل کے لیے چھوڑدے ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎قربان جاؤں اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ و سلم کے کہ حضور نے یہاں اقسام نہ فرمایا بلکہ اجزاء فرمایا کیونکہ کل کے اقسام و افراد ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے ہیں مگر کل کے اجزاء ایسے مخلوط ہو تے ہیں کہ ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہوتے جیسے سکنجین کے اجزاء، چونکہ یہ تینوں قسم کے مؤمن دنیا میں شکل و عقل،رنگ ڈھنگ وغیرہ میں ممتاز نہیں سب یکساں معلوم ہوتے ہیں،ظاہر میں یکساں، ضمائر میں فرق اس لیے انہیں اجزاء فرمایا،نیز سب مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں جن میں روح رواں حضور محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں کہ حضور نے سب کو ایک بنادیا،لہذا انہیں اجزاء فرمایا،صلی الله علی سیدنا محمد والہ واصحابہ وبارك وسلم،ہم عجمی گنوار اس عربی سردارکے راز کیا سمجھیں۔شعر
فہم رازش چہ کنم من عجمی او عربی لاف مہرش چہ زنم من حبشی او قرشی
۲
؎رسول پر ایمان لاتے ہی سارے ایمانیات کا ذکر آگیا،رب تعالٰی نے بھی فرمایا:"اٰمِنُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کوتعالٰی سے ملا کر بولنا جائز ہے،ثملانے کی ضرورت نہیں بلکہو رسول کو ملانا ہی جان ایمان ہے۔دیکھو کتاب اسلام کی چار اصولی اصطلاحیں۔ثمفرما کر یہ بتایا گیا کہ مرتے دم تک مؤمن کو کسی ایمانی چیز میں تردد نہ ہونا چاہیے اعتبار خاتمہ کا ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بدعملی اور گناہ کی عادات عملی تردد وشک ہے،مؤمن کامل وہ ہے جو اعتقادی وعملی دونوں قسموں کے شکوک سے دور رہے۔
۳
؎جہاد کا ذکر ایمان کے بعد فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ تمام نیک اعمال کا اعتبار ایمان کے بعد ہے،کافر کی کوئی نیکی قبول نہیں،جڑ کٹ جانے پر شاخوں کو پانی دینا بیکار ہے،یہ بھی بتایا گیا کہ جہاد وہ افضل ہے کہ جو ہر قسم کے مال اور جان سے کیا جاوے کہ مجاہد خود بھی میدان میں جاوے اور ہر طرح کا مال بھی وہاں خرچ کرے۔
۴
؎یعنی دوسری قسم کا مؤمن وہ ہے جو اگرچہ کسی کو نفع نہ پہنچاسکے مگر نقصان بھی نہ پہنچائے مسلمانوں کو اس کی طرف سے امن ہو،ہر شخص یہ سمجھتا ہو کہ اس سے ہم کو نقصان نہ پہنچے گا،الذیواحد فرما کر یہ بتایا کہ ایسے لوگ دنیا میں تھوڑے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ مصرع مرا بجز تو امید نیست برمردماں
۵
؎یعنی تیسرے نمبر کا مؤمن وہ ہے کہ بہت دفعہ اس کے دل میں مال عزت شہرت حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہو اور اس کا دل چاہے کہ دوسروں کی طرح میں بھی ہر جائز ناجائز طریقہ سے یہ چیزیں حاصل کروں مگر پھر وہ اپنے دل کو ان چیزوں سے روکے محض خوفِ خدا کی وجہ سے کہ کہیں رب تعالٰی ناراض نہ ہوجائے، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاۡوٰی"ایسا شخص بھی مجاہد ہے جو ہر وقت اپنے نفس سے جہادکرتا ہے،اسے بری طرف جانے سے روکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3854