- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3810
باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3810
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 3787
- 3788
- 3789
- 3790
- 3791
- 3792
- 3793
- 3794
- 3795
- 3796
- 3797
- 3798
- 3799
- 3800
- 3801
- 3802
- 3803
- 3804
- 3805
- 3806
- 3807
- 3808
- 3809
- 3810
- 3811
- 3812
- 3813
- 3814
- 3815
- 3816
- 3817
- 3818
- 3819
- 3820
- 3821
- 3822
- 3823
- 3824
- 3825
- 3826
- 3827
- 3828
- 3829
- 3830
- 3831
- 3832
- 3833
- 3834
- 3835
- 3836
- 3837
- 3838
- 3839
- 3840
- 3841
- 3842
- 3843
- 3844
- 3845
- 3846
- 3847
- 3848
- 3849
- 3850
- 3851
- 3852
- 3853
- 3854
- 3855
- 3856
- 3857
- 3858
- 3859
- 3860
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ حتّٰى سَبَقَوا الْمُشْرِكِيْنَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُوْنَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُوْمُوْا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ" قَالَ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ: بَخٍ بَخْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا يَحْمِلُكَ عَلٰى قَوْلِكَ: بَخْ بَخْ؟ " قَالَ: لَا وَاللّٰهِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُوْنَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ: "فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا" قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهٖ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيْتُ حتّٰى آكُلَ تَمَرَاتِيْ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيْلَةٌ قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهٗ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حتّٰى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعنه قال: انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر، وجاء المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض" قال عمير بن الحمام: بخ بخ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما يحملك على قولك: بخ بخ؟ " قال: لا والله يا رسول الله! إلا رجاء أن أكون من أهلها قال: "فإنك من أهلها" قال: فأخرج تمرات من قرنه فجعل يأكل منهن ثم قال: لئن أنا حييت حتى آكل تمراتي إنها لحياة طويلة قال: فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل. رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ تشریف لے گئے حتی کہ بدر میں مشرکین سے پہلے پہنچ گئے ۱؎اور مشرکین بھی آگئے تو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمانوں و زمین کی برابر ہے ۲؎تو عمیر ابن حمام بولے۳؎خوب خوب رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تجھے خوب خوب کہنے پر کون چیز بھڑکا رہی ہے۴؎بولے یارسولﷲاور کوئی چیز نہیں سواء اس امید کے کہ میں بھی جنت کے اہل سے ہوجاؤں ۵؎فرمایا تم اہلِ جنت میں سے ہو ۶؎راوی فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ چھوارے نکالے۷؎اور انہیں کھانے لگے پھر بولے کہ اگر ان چھوہاروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ زندگی بہت دراز ہے ۸؎فرماتے ہیں کہ جتنے چھوارے ان کے پاس تھے پھینک دیئے پھر کفار سے جنگ کی حتی کہ شہید کردیئے گئے ۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎بدر ایک شخص کا نام تھا جس نے ایک جگہ کنواں کھدوایا اس کنویں کا نام بھی بدر تھا،پھر اس میدان کا نام بھی بدر ہوگیا اب وہاں بڑی بستی ہوگئی ہے۔مدینہ منورہ سے ایک سو چوالیس میل جانب مکہ معظمہ ہے۔اس فقیر نے اس جگہ اور اس کے متبرک مقامات کی کئی بار زیارت کی ہیں۔پہلا باقاعدہ اسلامی جہاد اسی جگہ ہوا،بدر مذکر بھی بولا جاتا ہے مؤنث بھی یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے مجاہد صحابہ کے ساتھ بدر میں پہلے پہنچ گئے،مشرکین مکہ بعد میں وہاں پہنچے۔
۲؎یعنی اس عمل کی طرف چلو جو جنت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے وہاں جانا گویا جنت میں ہی جانا ہے جیسے فرمایا گیا ہے کہ جنت تلواروں کے سایہ میں ہے یا جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے،عمومًا ہر چیز کی چوڑائی اس کی لمبائی سے چھوٹی ہوتی ہے،جنت کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمینوں کی برابر ہے تو غورکرو کہ اس کی لمبائی کتنی ہوگی،اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت نفیس طریقہ سے باریک مسئلہ سمجھا دیا۔
۳؎آپ عمیر ابن حمام ابن اجرع انصاری سلمی ہیں،انصار میں سب سے پہلے شہید آپ ہیں،آپ کو خالد ابن اعلم نے شہید کیا۔(مرقات)
۴؎یعنی ہمارے اس فرمان پر تم کیوں خوشی منارہے ہو اور خوب خوب کیوں کہہ رہے ہو کچھ اس کی حقیقت بھی ہے یا صرف شغل کرتے ہوئے یہ کہتے ہو،قتل کے ڈر سے کہتے ہو یا جنت کی امید سے۔حضور انور کا سوال اس لیے ہے کہ حضرت عمیر جواب دیں اور مسلمانوں کو ان کی اولوالعزمی معلوم ہوجائے ورنہ حضور تو ہر ایک کے دل کی حالت سے خبردار تھے جیسے جبل احد کے پتھروں کے دل کا حال معلوم کرکے فرمایا کہ احد ہم سے محبت کرتا ہے اور انسانوں کے دل کا حال کیونکر نہ معلوم ہوگا اس کا خیال رہے۔
۵؎معلوم ہوا کہ اپنا عمل و اخلاص و نیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنا ریاکاری نہیں بلکہ اس سے عمل اور زیادہ قبول ہوجاتا ہے۔
۶؎یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہر ایک کے سعیدوشقی ہونے پر مطلع ہونا کہ حضرت عمیر کے جنتی ہونے یعنی ایمان پر خاتمہ اور شہادت حساب محشر میں کامیابی ،پل صراط سے بخیریت گزرنے کی خبر پہلے ہی سے دے رہے ہیں کیونکہ جنت میں داخلہ ان سب منزلوں سے گزرنے کے بعد ہوگا۔خیال رہے کہ جس کے ایمان و جنتی ہونے کی حضور رجسٹری فرمادیں اس کا جنتی ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسے رب کی وحدانیت یقینی ہے۔
۷؎قرنقاف اور ر کے فتحہ سے بمعنی ترکش جس میں تیر رکھے جاتے ہیں۔
۸؎یہ ہے شوق شہادت کہ اب اپنی زندگی بھی بوجھ معلوم ہورہی ہے یا یہ عمل ہے حضور کے اس فرمان عالی پر کہقوموا الی جنۃ، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"۔
۹؎اور اپنے مقصد کو پہنچ گئے،نیت خیر سے موت کی تمنا،موت کی دعا،موت حاصل کرنے کی ایسی کوشش بھی عبادت ہے۔شعر
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3810