Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3810

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ حتّٰى سَبَقَوا الْمُشْرِكِيْنَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُوْنَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُوْمُوْا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ" قَالَ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ: بَخٍ بَخْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا يَحْمِلُكَ عَلٰى قَوْلِكَ: بَخْ بَخْ؟ " قَالَ: لَا وَاللّٰهِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُوْنَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ: "فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا" قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهٖ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيْتُ حتّٰى آكُلَ تَمَرَاتِيْ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيْلَةٌ قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهٗ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حتّٰى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر، وجاء المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض" قال عمير بن الحمام: بخ بخ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما يحملك على قولك: بخ بخ؟ " قال: لا والله يا رسول الله! إلا رجاء أن أكون من أهلها قال: "فإنك من أهلها" قال: فأخرج تمرات من قرنه فجعل يأكل منهن ثم قال: لئن أنا حييت حتى آكل تمراتي إنها لحياة طويلة قال: فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ تشریف لے گئے حتی کہ بدر میں مشرکین سے پہلے پہنچ گئے ۱؎اور مشرکین بھی آگئے تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمانوں و زمین کی برابر ہے ۲؎تو عمیر ابن حمام بولے۳؎خوب خوب رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تجھے خوب خوب کہنے پر کون چیز بھڑکا رہی ہے۴؎بولے یارسولاور کوئی چیز نہیں سواء اس امید کے کہ میں بھی جنت کے اہل سے ہوجاؤں ۵؎فرمایا تم اہلِ جنت میں سے ہو ۶؎راوی فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ چھوارے نکالے۷؎اور انہیں کھانے لگے پھر بولے کہ اگر ان چھوہاروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ زندگی بہت دراز ہے ۸؎فرماتے ہیں کہ جتنے چھوارے ان کے پاس تھے پھینک دیئے پھر کفار سے جنگ کی حتی کہ شہید کردیئے گئے ۹؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بدر ایک شخص کا نام تھا جس نے ایک جگہ کنواں کھدوایا اس کنویں کا نام بھی بدر تھا،پھر اس میدان کا نام بھی بدر ہوگیا اب وہاں بڑی بستی ہوگئی ہے۔مدینہ منورہ سے ایک سو چوالیس میل جانب مکہ معظمہ ہے۔اس فقیر نے اس جگہ اور اس کے متبرک مقامات کی کئی بار زیارت کی ہیں۔پہلا باقاعدہ اسلامی جہاد اسی جگہ ہوا،بدر مذکر بھی بولا جاتا ہے مؤنث بھی یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے مجاہد صحابہ کے ساتھ بدر میں پہلے پہنچ گئے،مشرکین مکہ بعد میں وہاں پہنچے۔
۲
؎یعنی اس عمل کی طرف چلو جو جنت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے وہاں جانا گویا جنت میں ہی جانا ہے جیسے فرمایا گیا ہے کہ جنت تلواروں کے سایہ میں ہے یا جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے،عمومًا ہر چیز کی چوڑائی اس کی لمبائی سے چھوٹی ہوتی ہے،جنت کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمینوں کی برابر ہے تو غورکرو کہ اس کی لمبائی کتنی ہوگی،اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت نفیس طریقہ سے باریک مسئلہ سمجھا دیا۔
۳
؎آپ عمیر ابن حمام ابن اجرع انصاری سلمی ہیں،انصار میں سب سے پہلے شہید آپ ہیں،آپ کو خالد ابن اعلم نے شہید کیا۔(مرقات)
۴
؎یعنی ہمارے اس فرمان پر تم کیوں خوشی منارہے ہو اور خوب خوب کیوں کہہ رہے ہو کچھ اس کی حقیقت بھی ہے یا صرف شغل کرتے ہوئے یہ کہتے ہو،قتل کے ڈر سے کہتے ہو یا جنت کی امید سے۔حضور انور کا سوال اس لیے ہے کہ حضرت عمیر جواب دیں اور مسلمانوں کو ان کی اولوالعزمی معلوم ہوجائے ورنہ حضور تو ہر ایک کے دل کی حالت سے خبردار تھے جیسے جبل احد کے پتھروں کے دل کا حال معلوم کرکے فرمایا کہ احد ہم سے محبت کرتا ہے اور انسانوں کے دل کا حال کیونکر نہ معلوم ہوگا اس کا خیال رہے۔
۵
؎معلوم ہوا کہ اپنا عمل و اخلاص و نیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنا ریاکاری نہیں بلکہ اس سے عمل اور زیادہ قبول ہوجاتا ہے۔
۶
؎یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہر ایک کے سعیدوشقی ہونے پر مطلع ہونا کہ حضرت عمیر کے جنتی ہونے یعنی ایمان پر خاتمہ اور شہادت حساب محشر میں کامیابی ،پل صراط سے بخیریت گزرنے کی خبر پہلے ہی سے دے رہے ہیں کیونکہ جنت میں داخلہ ان سب منزلوں سے گزرنے کے بعد ہوگا۔خیال رہے کہ جس کے ایمان و جنتی ہونے کی حضور رجسٹری فرمادیں اس کا جنتی ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسے رب کی وحدانیت یقینی ہے۔
۷
؎قرنقاف اور ر کے فتحہ سے بمعنی ترکش جس میں تیر رکھے جاتے ہیں۔
۸
؎یہ ہے شوق شہادت کہ اب اپنی زندگی بھی بوجھ معلوم ہورہی ہے یا یہ عمل ہے حضور کے اس فرمان عالی پر کہقوموا الی جنۃ، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ
۹
؎اور اپنے مقصد کو پہنچ گئے،نیت خیر سے موت کی تمنا،موت کی دعا،موت حاصل کرنے کی ایسی کوشش بھی عبادت ہے۔شعر
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3810