- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3804
باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3804
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 3787
- 3788
- 3789
- 3790
- 3791
- 3792
- 3793
- 3794
- 3795
- 3796
- 3797
- 3798
- 3799
- 3800
- 3801
- 3802
- 3803
- 3804
- 3805
- 3806
- 3807
- 3808
- 3809
- 3810
- 3811
- 3812
- 3813
- 3814
- 3815
- 3816
- 3817
- 3818
- 3819
- 3820
- 3821
- 3822
- 3823
- 3824
- 3825
- 3826
- 3827
- 3828
- 3829
- 3830
- 3831
- 3832
- 3833
- 3834
- 3835
- 3836
- 3837
- 3838
- 3839
- 3840
- 3841
- 3842
- 3843
- 3844
- 3845
- 3846
- 3847
- 3848
- 3849
- 3850
- 3851
- 3852
- 3853
- 3854
- 3855
- 3856
- 3857
- 3858
- 3859
- 3860
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ مَسْعُوْدٍ عَنْ هٰذِهِ الآيَةِ: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ الآيَةَ ، قَالَ: إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذٰلِكَ فَقَالَ: "أَرْوَاحُهُمْ فِيْ أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ،لَهَا قَنَادِيْلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِيْ إِلٰى تِلْكَ الْقَنَادِيْلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُوْنَ شَيْئًا؟ قَالُوْا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِيْ وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا، فَفَعَلَ ذٰلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوْا مِنْ أَنْ يَسْأَلُوْا قَالُوْا: يَا رَبُّ نُرِيْدُ أَنْ تُرَدَّ أَرْوَاحُنَا فِيْ أَجْسَادِنَا حتّٰى نُقْتَلَ فِيْ سَبِيْلِكَ مرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوْا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن مسروق قال: سألنا عبد الله بن مسعود عن هذه الآية: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون الآية ، قال: إنا قد سألنا عن ذلك فقال: "أرواحهم في أجواف طير خضر،لها قناديل معلقة بالعرش، تسرح من الجنة حيث شاءت، ثم تأوي إلى تلك القناديل فاطلع إليهم ربهم اطلاعة فقال: هل تشتهون شيئا؟ قالوا: أي شيء نشتهي ونحن نسرح من الجنة حيث شئنا، ففعل ذلك بهم ثلاث مرات، فلما رأوا أنهم لن يتركوا من أن يسألوا قالوا: يا رب نريد أن ترد أرواحنا في أجسادنا حتى نقتل في سبيلك مرة أخرى فلما رأى أن ليس لهم حاجة تركوا". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت مسروق سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم نے عبدﷲابن مسعود سے اس آیت کے متعلق پوچھا کہﷲکی راہ میں مقتولوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں،الخ ۲؎فرمایا ہم نے اس کے متعلق پوچھا۳؎تو فرمایا ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوتی ہیں۴؎ان کے لیے عرش میں قندیلیں لٹک رہی ہیں۵؎جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ۶؎پھر ان کی طرف ان کا رب متوجہ ہوتا ہے ۷؎تو فرماتا ہے کیا تم کوئی چیز چاہتے ہو۸؎وہ عرض کرتے ہیں ہم کیا چیز چاہیں ہم تو جنت میں جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں ان کے لیے تین بار یہ سوال کیا جاتاہے ۹؎جب یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مانگنے سے نہ چھوڑیں جائیں گے تو عرض کرتے ہیں یا رب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دی جائیں ۱۰؎تاکہ ہم تیری راہ میں دوبارہ قتل کیے جائیں جب رب دیکھتا ہے کہ انہیں کوئی حاجت نہیں تو یہ چھوڑے جاتے ہیں ۱۱؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ مشہور تابعی ہیں،حضور کی وفات سے پہلے اسلام لائے مگر زیارت نہ کرسکے، خلفائے راشدین،ابن مسعود اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم کی زیارت و صحبت سے شرف حاصل ہوا،حضرت ابن مسعود کے ساتھ اکثر رہے،کثرت نوافل کی وجہ سے پاؤں سوجے رہتے تھے،جب حج کو جاتے تو حرم شریف میں ہی رہتے وہاں ہی سوتے تھے،بچپن میں آپ کو چوری کرلیا گیا تھا اس لیے نام مسروق ہوا،بصرہ کے حاکم رہے،کوفہ میں۶۲∞ہجری میں وفات پائی۔
۲؎سوال کا مقصد یہ ہے کہ شہداءکی زندگی کے کیا معنی اور انہیں روزی کس طرح دی جاتی ہے وہ تو دفن ہوچکے ان کی میراث تقسیم ہوچکی ان کی بیویاں دوسروں سے نکاح کرچکیں،جب ان پر مُردوں کے احکام جاری ہوچکے تو وہ زندہ کیونکر ہیں۔
۳؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے لہذا یہ حدیث مرفوع ہے،(مرقات،اشعہ،نووی،شرح مسلم)کیونکہ ظاہر یہ ہی ہے کہ حضرت ابن مسعود نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ہی دریافت کیا۔
۴؎یعنیﷲتعالٰی ان روحوں کے لیے ان کے بدنوں کے قائم مقام اجسام پیدا فرماتا ہے ان اجسام میں یہ روحیں امانۃً رہتی ہیں،یہ اجسام ان روحوں کے اپنے نہیں ہوتے لہذا یہ تناسخ یا اواگون نہیں۔
۵؎یعنی شہداء کی روحیں وہاں سیر تو کرتی ہیں اور جنت کے میوے تو کھاتی ہیں مگر حوروں اور وہاں کے مکانات کو استعمال نہیں کرتیں،یہ استعمال تو بعد قیامت ہوسکے گا۔رب تعالٰی نے ان کے لیے دنیاوی پنجروں یا آشیانوں کی طرح نورانی قندیلیں بنا دی ہیں جن میں وہ قیام کرتی ہیں۔
۶؎یعنی ہر وقت وہ روحیں جنت میں ہی رہتی ہیں،یہ سیرکرتے وقت بھی اور دوسرے وقت بھی مگر اس کے باوجود ان روحوں کا تعلق ان کی قبور اور مدفون جسموں سے ضرور رہتا ہے جیسے سورج کی شعاعیں زمین پر پڑتی ہیں مگر سورج سے تعلق رکھتی ہیں یا ہمارا نور نظر آسمان کی سیرکر تا ہے مگر آنکھ سے بے تعلق نہیں ہوجاتا ورنہ آنکھ اندھی ہوجاتی،ارواح شہداء کی لطافت تو ان شعاعوں اور نور نظر سے کہیں زیادہ ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض یعنی کہ جب شہداء کی روحیں جنت میں ہیں تو قبورشہداء کی زیارت،انہیں سلام کرنا بے کار ہوا۔اس حیات کی پوری بحث اسی مرآت کےباب الجمعہمیں ملاحظہ فرمائیں،حدیثفبنی العاصی برزقکی شرح میں۔
۷؎اطلاعکے معنی ہیں جھانکنا ،چڑھنا مگر یہ معنی رب تعالٰی کے لیے ناممکن ہے اس لیے یہاں اس کے معنی نظر فرمانا، تجلی فرمانا ،توجہ فرمانا مناسب ہیں۔
۸؎بعض شہداء سے بے حجابانہ یہ کلام ہوتا ہے اور اکثر سے وراء حجاب،اس عالم میں ان آنکھوں سے رب تعالٰی کا جمال دیکھنا ناممکن ہے،وہ عالم بھی دوسرا ہے اور دیکھنے والی آنکھ بھی دوسری۔
۹؎یہ بار بار سوال فرمانا اظہار کرم خاص کے لیے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں حدیث بالکل ظاہر پرہے۔
۱۰؎یعنی ہم کو کچھ نہ کچھ مانگنا ہی پڑے گا تب وہ جنت کی بقیہ نعمتیں حوروقصور وغیرہ نہیں مانگتے بلکہ پھر ان اجسام میں پہلے کی طرح جانا مانگتے ہیں جس سے انہیں ظاہری زندگی ملے اور پھر وہ جہاد کرکے شہید ہوسکیں۔ خیال رہے کہ یہاں سوال ظاہری زندگی اور شرعی جہاد اور شرعی شہادت کا ہے ورنہ بعض موقعوں پر ارواح شہداء کو میدانِ جہاد میں جہاد کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔چنانچہ ابن قیم نےکتاب الروحمیں ص۱۵۳ پر لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم و صدیق اکبر و فاروق اعظم کی روحوں نے بعد وفات کفار کے بڑے لشکر جرار کو بھگا دیا اور مجاہد مسلمانوں کی مدد کی اور وہ مدد بالکل درست تھی۔صبح کو لشکر کفار مقتول تھا اور باقی بھاگ چکا تھا مگر یہ جہاد اور نوعیت کا ہے،نیز اسیکتاب الروحمیں ہے کہ حضرت کی روح پاک نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے ایک دورودراز ملک میں پہنچ کر ایک رافضی کو قتل کیا۔
۱۱؎خیال رہے کہ رب تعالٰی نے ان روحوں کو دوسری طرف یعنی دوسرے سوالوں کی طرف متوجہ نہ ہونے دیا،ورنہ وہ دیدار الٰہی، دیدار مصطفوی کی تمنا کرتے بلکہ ان کی توجہ شہادت کی طرف دلائی تاکہ لوگوں کو شہادت اور غزوہ کی اہمیت کا پتہ لگے،یہ بھی خیال رہے کہ اس دنیا میں ناممکن چیز کی دعا کرنا ممنوع ہے مگر وہ تو دنیا ہی دوسری ہے وہاں ناممکن کی دعا کرنا ممنوع نہیں،کہ شہداء دنیا میں واپس آنے کی دعا کرتے ہیں جو ناممکن ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنت اور وہاں کی نعمتیں پیدا ہوچکی ہیں۔دوسرے یہ کہ قیامت سے پہلے کوئی شخص جزاوثواب کے لیے جنت میں اس جسم سے نہیں جاسکتا۔تیسرے یہ کہ بعض خوش نصیبوں کو روحانی داخلہ قیامت کے پہلے بھی عطا ہوسکتا ہے ۔چوتھے یہ کہ جنت کے پھل ،ہوا ،دوسری نعمتیں قیامت سے پہلے بعض لوگ استعمال کرتے ہیں مگر وہاں کی حوروں کو ہاتھ نہیں لگا سکتے،حوریں تو بعد قیامت ہی میسر ہوں گی۔دیکھو آدم علیہ السلام کو جنت کے قیام کے زمانہ میں صرف کھانے کی اجازت تھی،اگر حوروں کی اجازت ہوتی تو آپ کو تنہائی کی وحشت نہ ہوتی اور حضرت حوا کی پیدائش کی خواہش نہ پیدا ہوتی۔پانچویں یہ کہ روح کو فنا نہیں موت جسم پر طاری ہوتی ہے کہ اس سے روح علیٰحدہ کردی جاتی ہے۔چھٹے یہ کہ روح کو راحت و تکلیف کا احساس بعدموت رہتا ہے ورنہ برزخ کے ثواب و عذاب کے کیا معنی ؟ساتویں یہ کہ برزخ کا ثواب و عذاب برحق ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا وَ یَوْمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوۡۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ"یہ آیت کریمہ عذاب قبر کے لیے صریحی نص ہے جس کی تاویل نہیں ہوسکتی، برزخ کے احوال برحق ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3804