Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3857

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ وَأَبِيْ أُمَامَةَ وَعَبْدِ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللّٰهِ بْنُ عَمْرٍو وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِيْنَ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: "مَنْ أَرْسَلَ نَفَقَةً فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَأَقَامَ فِيْ بَيْتِهٖ، فَلَهٗ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِئَةِ دِرْهَمٍ،وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهٖ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَأَنْفَقَ فِيْ وَجْهِهٖ ذٰلِكَ، فَلَهٗ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِئَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ"، ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الآيَةَ: وَاللّٰهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَآءُ. رَوَاهُ ابنُ مَاجَهْ.

وعن علي وأبي الدرداء وأبي هريرة وأبي أمامة وعبد الله بن عمر وعبد الله بن عمرو وجابر بن عبد الله وعمران بن حصين رضي الله عنهم أجمعين كلهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من أرسل نفقة في سبيل الله وأقام في بيته، فله بكل درهم سبع مئة درهم،ومن غزا بنفسه في سبيل الله وأنفق في وجهه ذلك، فله بكل درهم سبع مئة ألف درهم"، ثم تلا هذه الآية: والله يضاعف لمن يشاء. رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی،ابوالدرداء،ابوہریرہ،ابو امامہ عبدابن عمر اور عبداللہ ابن عمرو اور جابر بن عبداور عمران بن حصین سے یہ تمام حضرات رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں ۱؎کہ حضور نے فرمایا جو شخص راہِ خدا میں کچھ خرچہ بھیج دے۲؎اور خود اپنے گھر میں رہے۳؎اسے ہر درہم کے عوض سات سو درہم ملیں گے۴؎اور جو راہِ خدا میں بذات خود جہاد کرے اور اس کی راہ میں خرچ کرے تو اس کے لیے ہر درہم کے عوض سات لاکھ درہم ہیں پھر حضور نے یہ آیت تلاوت کیجسے چاہے گا بہت زیادہ دے گا ۵؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ ان آٹھوں صحابہ نے الگ الگ یہ روایت کی ہے اس لیےیحدثواحد کا صیغہ ارشاد ہوا جمع یعنییحدثوننہ فرمایا۔(مرقات)
۲
؎روپیہ یا موسم کے مطابق نمازیوں کے لیے کپڑے یا ان کے لیے راشن یا ہتھیار۔غرضیکہ کوئی چیز جو مجاہدوں کو ضروری ہو ان کے لیے کھیل کا سامان،گانے بجانے کے آلات،سینما فلم وغیرہ مراد نہیں کہ ان کا استعمال عام لوگوں کو ممنوع ہے اور مجاہدوں کو زیادہ ممنوع کہ وہ راہِ خدا میں سربکف ہیں،شہادت کی موت انکے سامنے ہے انہیں اس وقت بہت ہی تقویٰ اختیار کرنا چاہیے سرکاری ملازموں کا جب ریٹائر ہونے کا زمانہ قریب ہوتا ہے تو وہ بہت احتیاط برتتے ہیں کہ کہیں ہماری بے احتیاطی پنشن پر اثر نہ کرے۔
۳
؎کیونکہ اس وقت جہاد فرض کفایہ ہو فرض عین نہ ہو،ورنہ فرض عین ہونے کے وقت تو ہر مسلمان کو جہاد کرنا چاہیے،اس وقت گھر میں رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
۴
؎اس کا ماخذ وہ آیت کریمہ ہے"مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ
۵
؎اس طرح کہ جانی اور مالی دونوں قسم کا جہاد کرے تو چونکہ اس کا عمل زیادہ ہے اس لیے اجر بھی زیادہ،یہ حدیث اس آیت کے اس جز کی شرح ہے "وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3857