Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3837

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللّٰهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةِ دُمُوْعٍ مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ وَقَطْرَةِ دَمٍ يُهْرَاقُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، وَأَمَّا الأَثَرَانِ: فَأَثَرٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ، وَأَثَرٌ فِيْ فَرِيْضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللّٰهِ تَعَالٰى". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ليس شيء أحب إلى الله من قطرتين وأثرين: قطرة دموع من خشية الله وقطرة دم يهراق في سبيل الله، وأما الأثران: فأثر في سبيل الله، وأثر في فريضة من فرائض الله تعالى". رواه الترمذي، وقال: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایاتعالٰی کو دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں ایک آنسو کا قطرہ جوکے خوف سے ۱؎ہو ایک خون کا قطرہ جوکی راہ میں بہایا جائے ۲؎اور لیکن دو نشان قدم پس ایک وہ نشان قدم جوکی راہ میں ہو۳؎اور ایک وہ نشان قدم جوکے فرائض میں سے کسی فرض میں ہو۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ گنہگاروں کو رب تعالٰی کے عذاب سے خوف ہوتا ہے،نیکوکاروں کو اس کی ذات سے ہیبت و جلال سے خوف ہوتا ہے یہ خوف محبت و اطاعت پیدا کرتا ہے،یہ خوفتعالیکی بڑی نعمت ہے اور خوف ایذاء جو نفرت پیدا کرتا ہے وہ خدا سے خوف کرنا کفر ہے جیسے سانپ یا ظالم حاکم سے خوف،دیکھو شیطان نے بھی کہا تھا "اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ"مگر یہ خوف مفید نہیں مضر ہے،یہاں پہلی قسم کے دو خوف مراد ہیں۔
۲
؎چونکہ آنسوؤں کے قطرے مسلسل آنکھوں سے ٹپکتے رہے اور خون ایک دم نکل کر بہہ جاتا ہے اس لیے آنسو کے لیےدموعجمع ارشاد ہوا اور خون کے لیےدمواحد فرمایا گیا۔قطرہ سے مراد جنس قطرہ ہے نہ کہ شخصی قطرہ لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں،بہت سے آنسوؤں کا قطرہ ایک کیونکر ہوگا اور شہید کے جسم سے خون کا دہارا بہتا ہے ایک قطرہ نہیں نکلتا۔
۳
؎کی راہ سے ہر وہ راستہ مراد ہے جو رضاء الٰہی کے لیے طے کیا جائے جیسے نماز کے لیے مسجد کو جانا، طلب علم کے لیے مدرسہ جانا،جہاد کے لیے میدان جہاد میں جانا اور وہاں چلنا پھرنا۔نشان قدم سے عام نشان مراد ہے خواہ محسوس ہو یا نہ ہو لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ پختہ سڑک پر چلنے میں نشان قدم پڑتے ہی نہیں پھر پیاری کیا چیز ہوگی۔
۴
؎یعنی کسی شرعی فریضہ کو ادا کرنے کے لیے چلا اس کے نشان قدم رب کو پیارے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اثر سے مراد مطلقًا نشان ہو،قدم کی قید نہ ہو تو حدیث بہت جامع بھی ہوگی اور واضح بھی لہذا سردیوں میں وضو سے ہاتھ پاؤں پھٹ جائیں،گرمیوں میں پیشانی پر گرم زمین پر سجدے پڑ جاویں،روزے میں منہ کی بو،حج و جہاد میں غبارراہ جو کپڑوں اور منہ پر پڑ جائے،یہ رب کو بڑے پیارے ہیں،مرقات نے یہ ہی توجیہ اختیار کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3837