Main Icon

باب:جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3812

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّة تَغْزُوْ فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ إِلَّا كَانُوْا قَدْ تَعَجَّلُوْا ثُلُثَيْ أُجُوْرِهِمْ، وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُوْرُهُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد الله ابن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما من غازية أو سرية تغزو فتغنم وتسلم إلا كانوا قد تعجلوا ثلثي أجورهم، وما من غازية أو سرية تخفق وتصاب إلا تم أجورهم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں ہے غازیوں کا کوئی چھوٹا بڑا لشکر ۱؎جو جہاد کرے تو غنیمت پالے اور سلامت رہے مگر وہ اپنے ثواب کے دو تہائی حصے فورًا حاصل کرلیتے ہیں ۲؎اور نہیں ہے کوئی غازیوں کی چھوٹی بڑی فوج جو ناکام رہے اور تکلیف دی جائے ۳؎مگر ان کے ثواب پورے ہوجاتے ہیں ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چار سوغازیوں تک کا لشکر سریہ کہلاتا ہے اس سے بڑا لشکر فوج،نیز جس جہاد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم شرکت نہ فرماویں وہ سریہ ہے اور جس میں حضور بنفس نفیس شرکت فرمادیں وہ غزوہ۔(مرقات و اشعہ) یعنی آئندہ حکم ہر چھوٹے بڑے لشکر کے لیے ہے۔
۲
؎کیونکہ جہاد میں رب کی طرف سے تین نعمتیں ملتی ہیں،سلامتی ،غنیمت،ثواب و اجر پہلی دو نعمتیں دنیا میں اور آخری نعمت ثواب و اجر آخرت میں۔
۳
؎تُخْفِقُبنا ہےخفقسے بمعنی مجاہد کا بغیر غنیمت ہونا یا شکاری کا بغیر شکار واپس لوٹنا،تکلیف سے مراد زخم و شہادت اور دوسری تمام تکالیف ہیں جو عمومًا جہاد میں پیش آتی ہیں یعنی جو غازی غنیمت تو حاصل نہ کرسکے زخمی یا شہید ہوجائے۔۴؎یعنی اسے یہ تینوں چیزیں آخرت میں ملیں گی۔خیال رہے کہ غنیمت اور سلامتی کو اجر فرمانا اس لیے ہے کہ غزوہ میں یہ بھی رب تعالٰی کا عطیہ ہوتا ہے ورنہ غازی کا جہاد سلامتی اور غنیمت کے لیے نہیں ہوتا وہ تو صرف اعلاء کلمۃکے لیے جہادکرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3812