Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4916

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهٗ فَيَسُبُّ أُمَّهٗ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من الكبائر شتم الرجل والديه . قالوا: يا رسول الله وهل يشتم الرجل والديه؟ قال: نعم يسب أبا الرجل فيسب أباه ويسب أمه فيسب أمه . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ گناہ کبیرہ سے ہے کسی شخص کا اپنے ماں باپ کو گالی دینا ۱∞؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے فرمایا ہاں ۲؎یہ کسی کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے باپ کو گالی دے اور یہ کسی کی ماں کی گالی دے تو وہ اس کی ماں کو گالی دے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بمعنی اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو گالی دیتا ہے۔
۲
؎فرمایا ہاں یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ کوئی بیٹا اپنے ماں باپ کو گالی دےسبحان الله!وہ زمانہ قدوسیوں کا تھا کہ یہ جرم ان کی عقل میں نہ آتا تھا اب تو کھلم کھلا نالائق لوگ اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں ذرا شرم نہیں کرتے۔
۳
؎خیال رہے کہسبّہر قسم کے برا کہنے کو کہتے ہیں گالی ہو یا اور کچھ مگرشتمگالی کو کہا جاتا ہے،کبھیسببمعنیشتمآتا ہے اورشتمبمعنیسب،کسی سے کہا تیرا باپ احمق ہے یہ ہےسب،کسی سے کہا تیرا باپ زانی ہے حرامی ہے یہ ہےشتم۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کے بزرگوں کو تم برا نہ کہو تاکہ وہ تمہارے بزرگوں کو برا نہ کہے،یہ ہی حکم اولاد و عزیزوں کے متعلق ہے تم کسی کی بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دو تاکہ وہ تمہاری بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دے جیسے کہو گے ویسی سنو گے بہت اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہے کسی نے کیا خوب کہا۔شعر
گر ما درخویش دوست داری دشنام مکن بہ مادر من
ابن ابی الدنیا میں بروایت ابوہریرہ رضی الله عنہ مرفوعًا ہے کہ کسی مسلمان کی آبروریزی کرنا اسے بہتان لگانا گناہ کبیرہ میں سے ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4916