Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4926

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً فَقُلْتُ: مَنْ هٰذَا؟ قَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ كَذٰلِكُمُ الْبِرُّ كَذٰلِكُمُ الْبِرُّ . وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهٖ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ . وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: نِمْتُ فَرَأَيْتَنِيْ فِي الْجَنَّةِ بَدْلَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " دخلت الجنة فسمعت فيها قراءة فقلت: من هذا؟ قالوا: حارثة بن النعمان كذلكم البر كذلكم البر . وكان أبر الناس بأمه . رواه في شرح السنة . والبيهقي في شعب الإيمان وفي رواية: قال: نمت فرأيتني في الجنة بدل دخلت الجنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت سنی ۱∞؎میں نے کہا یہ کون ہے بولے یہ حارثہ ابن نعمان ہیں ۲؎بھلائی ایسی ہوتی ہے بھلائی ایسی ہوتی ہے۳؎اور وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکوکار تھے ۴؎شرح سنہ بیہقی شعب الایمان اور ان کی روایت میں ہے فرمایا میں سویا تو میں نے اپنے کو جنت میں دیکھا ۵؎بجائےدخلت الجنۃکے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک بار خواب میں ہم نے جنت دیکھی تو کسی کو خوش الحانی سے قرآن مجید تلاوت کرتے پایاقراءۃکی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے یعنیقراءۃ القرآن۔
۲
؎آپ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں،غزوہ بدر و احد میں شریک ہوئے،ایک بار حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور کے پاس کوئی شخص بیٹھا تھا آپ نے سلام کیا اس شخص نے بھی جواب دیا،جب دوبارہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا وہ صاحب جنہوں نے تم کو سلام کا جواب دیا حضرت جبریل تھے۔غالبًا حارثہ اس وقت وفات پاچکے تھے ہوسکتا ہے کہ اس وقت زندہ ہوں،پہلا احتمال قوی ہے۔
۳
؎یہ جملہ یا تو حضور انور کا فرمان ہے جو صحابہ سے فرمایا یا فرشتوں کی عرض و معروض ہے جو انہوں نے حضور سے کی توذلکمکی جمع تعظیم کے لیے ہے۔
۴
؎یہ قول راوی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی والدہ کی بہت ہی خدمت کرتے تھے اس کی وجہ سے انہیں یہ عظمت ملی۔
۵
؎اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ یہ واقعہ خواب کی معراج کا ہے نہ کہ بیداری کی معراج کا جیساکہ ابھی عرض کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4926