Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4919

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوَيِ الرَّحْمٰنِ فَقَالَ: مَهْ؟ قَالَتْ: هٰذَا مَقَامُ الْعَائِذُ بِكَ مِنَ الْقَطِيْعَةِ. قَالَ: أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلٰى يَا رَبِّ قَالَ: فَذَاكِ ".(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فأخذت بحقوي الرحمن فقال: مه؟ قالت: هذا مقام العائذ بك من القطيعة. قال: ألا ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك؟ قالت: بلى يا رب قال: فذاك ".(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله نے مخلوق پیدا فرمائی ۱∞؎جب اس سے فارغ ہوا تو رحم اٹھ کھڑا ہوا پھر اس نے رحمان کا دامن کرم پکڑلیا ۲؎رب نے فرمایا کیا ہے۳؎عرض کیا یہ جگہ ہے اس کی جو توڑے جانے سے تیری پناہ لے۴؎فرمایا کیا تو اس سے راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے اسے توڑ دوں۵؎بولا ہاں اے رب فرمایا تو ایسا ہی ہے۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںخلقسے مراد یا تو پیدائش کا فیصلہ فرمانا ہے یا اندازہ لگانا لہذا حدیث واضح ہے۔
۲
؎حقوکہتے ہیں کمر کو جہاں کمر بندیا تہبند باندھا جاتا ہے۔عرب والے جب کسی کی پناہ لیتے یا اس سے کچھ ضروری عرض معروض کرنا چاہتے تھے تو اس کی کمر سے لپٹ جاتے تھے یہاں وہ ہی استعارہ استعمال فرمایا گیا ہے۔رحم سے مراد رحمی رشتہ داری ہے اس عالم میں ہر چیز کی شکل ہے لہذا یہ رشتہ داری ایک خاص شکل میں تھی اور اس نے صاف صاف یہ عرض کیا قیامت میں ہمارے اعمال،قرآن،رمضان کی خاص شکلیں ہوں گی وہ کلام کریں گے لہذا حدیث واضح ہے،بعض شارحین نے کہا کہ یہ حدیث متشابہات سے ہے کہ اسے بغیر سمجھے ہی مان لو۔
۳
؎مہمخفف ہےماھذاکا یا اسم فعل ہے یا اصل میں لفظماتھاہوقف کی ہے مطلب یہ ہی ہے کہ تو کیا کہتا ہے۔
۴
؎رحم توڑے جانے سے مراد ہے حقوق قرابت ادا نہ کرنا یعنی اس بات سے تیری پناہ لیتا ہوں کہ کوئی میرے حق ادا نہ کرے۔
۵
؎یعنی جو شخص اپنے اہل قرابت کے حق بالکل ادا نہ کرے اور دوسری عبادتیں کرے گا وہ مجھ تک نہ پہنچ سکے گا اور جو حقوق ادا کرے گا اگرچہ گنہگار ہوگا وہ میری رحمت میں داخل ہوگا بلکہ اسے دنیا ہی میں اور خیر کاموں کی توفیق بھی مل جاوے گی۔اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ رشتہ داری کے حقوق ادا کرنا واجب ہے قطع رحمی گناہ کبیرہ ہے،صلہ رحمی کے بہت درجے ہیں جتنا رشتہ قوی اتنے ہی حقوق زیادہ یہ ضرور خیال رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4919