Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4922

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ: مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللّٰهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللهُ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"الرحم معلقة بالعرش تقول: من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله ". (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رحم عرش سے لٹکا ہوا ہے ۱∞؎کہہ رہا ہے کہ جو مجھے جوڑے الله اسے جوڑے اور جو مجھے توڑے الله اسے توڑ دے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس عبارت کے معنی پہلے بیان ہوچکے کہ جو رشتہ داروں کا حق ادا کرے گا الله سے قرب پائے گا اور جو ادا نہ کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا وہ الله کی رحمت سے دور ہوجاوے گا۔اس میں گفتگو ہے کہ رشتہ داروں کی حد کہاں تک ہے جس کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں۔بعض علماء نے فرمایا کہ جن سے نکاح حرام ہے وہ ذی رحم ہیں لہذا چچا زاد خالہ زاد ذی رحم نہیں،بعض نے فرمایاکہ جن دو کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے وہ ذی رحم ہے،بعض کے نزدیک جن کو میراث پہنچ سکے وہ ذی رحم ہے لہذا والدین ،اولاد، بھائی،بہن چچا ماموں ان کی اولاد سب ذی رحم ہیں یہ ہی قول قوی ہے۔(مرقات)رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاُوْلُوا الۡاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ"۔یہ گفتگو ذی رحم کے متعلق ہے ان کے علاوہ دوسرے قرابت دار جیسے ساس،سالا،رضاعی ماں رضاعی بھائی یعنی ان کے ساتھ بھی سلوک کرے،رب تعالی فرماتا ہے :"اٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حلیمہ اور جناب ثویبہ کے عزیزوں سے سلوک کئے۔
۲
؎قاطعسے مراد یا تو ڈاکو ہے یعنی قاطع طریق(راہ مار)یا قاطع رحم یعنی رحم یعنی حقوق ادا نہ کرنے والا دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی یعنی یہ لوگ اولًا جنت میں نہ جائیں گے پہلے سزا پائیں گے پھر جائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4922