Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4932

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرٰى أَنْ يُعَجِّلَ اللّٰهُ ِلصَاحِبِهِ اَلْعَقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَايَدَّخِرُ لَهٗ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي بكرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من ذنب أحرى أن يعجل الله لصاحبه العقوبة في الدنيا مع مايدخر له في الآخرة من البغي وقطيعة الرحم . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اس کے مرتکب پر سزا الله دنیا میں بھی بھیجے مع آخرت میں ذخیرہ کرنے کے بمقابلہ بغاوت اور رشتہ توڑنے کے ۱∞؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی کیونکہ دنیا دارالعمل ہے آخرت دارالجزاء مگر دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی: ایک بغی،دوسرا رشتہ داروں کا حق ادا نہ کرنا ان کی حق تلفی۔بغیکے معنی ظلم بھی ہیں،بادشاہ اسلام پر بغاوت کرنا بھی،تکبروغرور کرنا بھی یہاں تینوں معنی کا احتمال ہے۔(مرقات)دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں بھی چین سے نہیں رہتا در بدر پھٹکارا پھرتا ہے،ماں باپ کا خدمتگار دنیا میں عیش،چین،عزت پاتا ہے یہ میرا خود اپنا تجربہ ہے۔طبرانی کی روایت میں ہے کہ عزیزوں کی حق تلفی خیانت اور جھوٹ اس لائق ہیں کہ ان کی سزا دونوں جہان میں ملے،رشتے داروں کی خدمت میں وہ نیکی ہے جس کی جزا دونوں جہان میں ملتی ہے حتی کہ بعض لوگ فاسق فاجر ہوتے ہیں مگر رشتہ داروں سے سلوک کی وجہ سے ان کی مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے۔(مرقات)یہ بھی تجربہ ہے بعض فساق ماں باپ کی خدمت کی برکت سے بہت پھلتے پھولتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4932