Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4925

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يرد القدر إلا الدعاء ولا يزيد في العمر إلا البر وإن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تقدیر کو نہیں رد کرتی مگر دعا ۲؎اور عمر میں نہیں زیادتی کرتا مگر اچھا سلوک ۳؎اور یقینًا انسان رزق سے محروم ہوجاتا ہے اس گناہ سے جو اسے پہنچے۴؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ ثوبان ابن بجدد ہیں،کنیت ابو عبدالله حضور صلی الله علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں، سفروحضر میں حضور کے ساتھ رہے،حضور کی وفات کے بعد شام چلے گئے،پہلے رملہ میں پھر حمص میں قیام رہا وہاں ہی ۵۴ ھ؁∞ میں وفات پائی۔
۲
؎تقدیر معلق ہے اور دعا سے مراد دعائے مقبول ہے خواہ اپنی دعا ہو یا کسی بزرگ کی،تقدیر مبرم کسی طرح بھی نہیں بدل سکتی۔(مرقات و اشعہ)تقدیر معلق کہتے ہیں اسے ہی جو شرائط و قیود پر موقو ف رکھی گئی کہ فرشتوں سے فرمایا گیا ہو کہ فلاں شخص اگر یہ کرے گا تو اس کا یہ یہ ہوگا علم الٰہی میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
۳
؎یعنی اپنے ماں باپ اور قرابت دار عزیزوں سے اچھا سلوک کرنا عمر بڑھادیتا ہے اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی تقدیر بدلنے کے متعلق عرض کیا گیا کہ انسان کی عمر دو قسم کی ہے: عمر مبرم یعنی علم الٰہی اور اس کا قطعی فیصلہ اس میں زیادتی کمی نا ممکن ہے،دوسری عمر معلق جہاں فرشتوں اولیاءالله کو اطلاع یوں دی گئی ہو کہ اگر یہ فلاں نیکی کرے تو اس کی عمر اتنی ہوگی اگر گناہ کرے تو اس سے کم جب یہ بندہ نیکی کرلیتا ہے تو اسے وہ ہی زیادہ عمر مل جاتی ہے جو نیکی پر معلق تھی۔
۴
؎اس فرمان کے چند معنی ہیں:ایک یہ کہ گناہوں سے رزق آخرت یعنی ثواب اعمال گھٹ جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ مؤمن کا گناہوں کی وجہ سے رزق روحانی یعنی اخلاص،اطمینان قلب،دل کا چین و سکون،رغبت الی الله گھٹ جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ مؤمن اپنے گناہوں کی وجہ سے تنگی رزق،یا بلاؤں میں گرفتار ہوجاتا ہے تاکہ ان کی وجہ سے گناہوں سے توبہ کرکے پاک و صاف ہوکر دنیا سے جائے لہذا اس فرمان پر یہ اعتراض نہیں کہ اکثر متقی پرہیزگار لوگ مفلوک الحال ہوتے ہیں اور فاسق و بدکار بڑے مالدار۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4925