Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4924

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ لِيْ قَرَابَةَ أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُوْنِيّ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيْؤُوْنَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَلَيْهِمْ وَيَجْهَلُوْنَ عَلَيَّ. فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللّٰهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلٰى ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة أن رجلا قال: يا رسول الله إن لي قرابة أصلهم ويقطعوني وأحسن إليهم ويسيؤون إلي وأحلم عليهم ويجهلون علي. فقال: لئن كنت كما قلت فكأنما تسفهم المل ولا يزال معك من الله ظهير عليهم ما دمت على ذلك . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوہریرہ سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول الله میرے قرابت دار ہیں ۱∞؎میں ان سے جوڑتا ہوں اوروہ مجھ سے توڑتے ہیں،ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں،میں ان سے بردباری سے برتتا ہوں ۲؎وہ مجھ پر جہالت کرتے ہیں تو فرمایا کہ اگر ویسا ہی ہے جیسے کہہ رہا ہے تو تو ان کے منہ میں بھوبل ڈال رہا ہے۳

شرح حدیث

۱∞؎یہاں قرابت سے مراد ذی قرابت یعنی رشتہ دار ہیں یہ صاحب ان کی شکایت بارگاہِ رسالت میں کررہے ہیں۔
۲
؎غرضکہ ہر طرح ان کی برائیوں کا بدلہ بھلائی سے دیتاہوں۔یہ دوسروں کی غیبت یا اپنی شیخی مارنا نہیں بلکہ مسئلہ دریافت کرنا ہے۔
۳
؎سفکے معنی ہیں ان کے منہ میں بھرتا ہے،ملمیم کے فتح لام کے شد سے بمعنی گرم راکھ جسے اردو میں بھوبل کہتے ہیں اس جملہ کے بہت معنی ہیں: ایک یہ کہ اس حالت میں ان لوگوں کو تیرا مال حرام ہے اور پھر وہ کھارہے ہیں تو گویا اپنے منہ میں بھوبل بھررہے ہیں،دوسرے یہ کہ ان کو ان حالات میں ایسی شرمندگی چاہیے کہ ان کے منہ جھلس جاویں جیسے بھوبل پڑ جانے سے منہ جھلس جاتا ہے،تیسرے یہ کہ ان کی برائیوں کی عوض تیرا ان سے سلوک کرنا گویا ان کے منہ بھوبل سے بھرنا ہے تو انہیں ذلیل کررہا ہے تیری عزت بڑھ رہی ہے،ان کی شرمندگی و ذلت،خیرات سے مال بڑھتا ہے عفو کرم سے عزت بڑھتی ہے۔
۴
؎یعنی جب تک تیرا یہ حلم اور برائی کی عوض بھلائی ہے تب تک الله تعالٰی کی طرف سے تجھے مدد پہنچتی رہے گی یا تجھ پر رب کی طرف سے فرشتہ مقرر رہے گا جو تجھے ان کی شر سے بچائے گا اور تیرے عزت و مال میں برکت دے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4924