Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4929

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: أُمَّكَ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمَّكَ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمَّكَ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: قلت: يا رسول الله من أبر؟ قال: أمك قلت: ثم من؟ قال: أمك قلت: ثم من؟ قال: أمك قلت: ثم من؟ قال: أباك ثم الأقرب فالأقرب رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله میں کس سے سلوک کروں فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا پھر اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنے باپ سے ۲؎پھر درجہ بدرجہ قرابت داروں سے ۳؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حیدہ قشیری ہیں،بصری ہیں،یہاںجدہمیںہضمیر بہز کی طرف لوٹتی ہے لہذا معاویہ ابن حیدہ سے یہ روایت ہے۔
۲
؎اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ حق الخدمت ماں کا تین گنا ہے باپ کا ایک گنا کہ ماں نے بچہ کو اولًا پیٹ میں رکھا،پھر جنا،پھر دودھ پلایا،اس کے بعد کی پروش میں ماں باپ دونوں شریک رہے۔خیال رہے کہ حق خدمت ماں کا زیادہ ہے۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ قرابت داروں سے مراد نسبی قرابت دار ہیں ان میں جتنا قرب زیادہ اتنا حق زیادہ۔چنانچہ پہلے بھائی بہن پھر ماموں چچا وغیرہ اور ہوسکتا ہے کہ قرابت دار عام مراد ہوں جن میں ساس،سالا رضاعی ماں وغیرہ سب شامل ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4929