Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4942

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَمُوتُ وَالِدَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا وَإِنَّهٗ لَهُمَا لَعَاقٌّ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو لَهُمَا وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمَا حَتّٰى يَكْتُبَهُ اللّٰهُ بَارًا

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن العبد ليموت والداه أو أحدهما وإنه لهما لعاق فلا يزال يدعو لهما ويستغفر لهما حتى يكتبه الله بارا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی بندہ جس کے ماں باپ یا ان میں سے ایک فوت ہوجاوے اور وہ ان کا نافرمان ہو ۱∞؎پھر وہ ان کے لیے دعا کرتا رہے بخشش مانگتا رہے حتی کہ الله اسے نیک کار لکھ دیتا ہے۲؎

شرح حدیث

۱∞؎ماں باپ کی نافرمانی میں حق الله کی تلفی بھی ہے اور حق العباد کی بربادی بھی لہذا یہ اسلامی گناہ بھی ہے اور ماں باپ کا حق مارنا بھی اور گناہ بھی ہے کبیرہ۔
۲
؎یعنی یہ نافرمان والدین کی وفات کے بعد اولًا نافرمانی سے توبہ کرے پھر مرتے دم تک ان کے لیے گناہوں کی بخشش کی دعا اور ایصال ثواب کرتا رہے تو رب تعالٰی بزرخ میں اس کے ماں باپ کو اس سے راضی کردے گا اور اس کا گناہ کبیرہ تھا بغیر توبہ معاف نہیں ہوتا۔(مرقات)آپ ماں باپ کے بعد ان کا تیجہ،چالیسواں،برسی وغیرہ اور وقتًا فوقتًا ان کے نام پر خیرات جو کیا کرتے ہیں ان سب کی اصل یہ حدیث ہے بلکہ ہر نمازی نماز ختم ہوتے وقت ماں باپ کو دعائیں دے کر سلام پھیرتا ہےرب اغفرلی ولوالدی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4942