Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4915

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ. وَكَرِهَ لَكُمْ وَ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن المغيرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات ووأد البنات ومنع وهات. وكره لكم و قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے مغیرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله نے حرام فرمایا ۱∞؎ماؤں کی نافرمانی اور بچیوں کا زندہ دفن اور روک رکھنا لاؤ لاؤ کرنا اور ناپسندیدہ کیا زیادہ قیل و قال بہت سوال ۲؎بربادی مال کو ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ بمقابلہ باپ ماں کا حق زیادہ ہے،نیز ماں کمزور دل ہے بہت جلد رنجیدہ ہوجاتی ہے یا اکثر اولاد وہاں سے ہی ضد کرتی ہے اس کا حکم نہیں مانتی اس لیے صرف ماں کا ذکر فرمایا ورنہ باپ کی نافرمانی بھی ممنوع ہے،اہلِ عرب زندہ بچیوں کو دفن کر دیتے تھے۔وھاتکے معنی یہ ہیں کہ ہمیشہ لیتے رہنا کبھی کسی کو دینا نہیں۔چاہیے یہ کہ لینا سیکھے تو دینا بھی سیکھے،بعض نے فرمایا کہ اس کے معنی ہیں واجب حقوق ادا نہ کرنا حرام کمائی سے پرہیز نہ کرنا۔
۲
؎یعنی ہر حکم کی وجہ پوچھنا عمل نہ کرنا یا زیادہ بولنا لوگوں سے مانگتے رہنا۔
۳
؎حرام رسموں میں مال خرچ کرنا فضول خرچی ہے،مال اڑانا مال کی بربادی ہے،اچھا کھانا پینا جب کہ اس میں اسراف اور تکبر نہ ہو بالکل جائز ہے یہ فرمان عالی جامع کلمات میں سے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بلاتکلف ہم وزن الفاظ بولنا ممنوع نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4915