Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4935

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: وَهَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟ . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَبَرَّهَا . رَوَاهُ
التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عمر أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إني أصبت ذنبا عظيما فهل لي من توبة؟ قال: هل لك من أم؟ قال: لا. قال: وهل لك من خالة؟ . قال: نعم. قال: فبرها . رواه
الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا یارسول الله میں نے بہت بڑا گناہ کرلیا ہے تو کیا میری توبہ ہوسکتی ہے ۱∞؎فرمایا کیا تیری ماں ہے عرض کیا نہیں فرمایا کیا تیری کوئی خالہ ہے عرض کیا کہ ہاں فرمایا اس سے اچھا سلوک کرو ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں نے قولی یا عملی بدترین گناہ کرلیا ہے ایسے بدترین گناہ کی بھی توبہ ہوسکتی ہے یا نہیں۔خیال رہے کہ یہاں سوال گناہ کے متعلق ہے کسی بندے کے حق کے متعلق نہیں کہ حق العبد بغیر ادا کیے یا بغیر اس صاحب حق کے معاف کیے معاف نہیں ہوتا۔
۲
؎یہ ہے حضور کی شان پردہ پوشی کہ اس سے پوچھانہیں کہ تو نے گناہ کیا کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کے سامنے بیان کرکے رسوا نہ ہو۔حضور کو معلوم تھا کہ اس نے گناہ کیا ہے جو صلہ رحمی کی وجہ سے معاف ہوسکتا ہے کسی کا حق نہیں مارا ہے جس کی معافی صلہ رحمی وغیرہ نیک عمل سے نہ ہوسکے۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ صلہ رحمی سے گناہ معاف ہوتے ہیں کہ صلہ رحمی بھی نیکی ہے اور نیکیوں سے گناہوں کی معافی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔دوسرے یہ کہ چھپے گناہ کی توبہ بھی چھپ کر ہی کرے،ہاں علانیہ گناہ کی توبہ علانیہ کرےالتوبۃ علی قدر الحوبۃتوبہ گناہ کے حد کی ہو اس سے نبی کریم کے علم غیب کا بھی ثبوت ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4935