Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4918

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهٗ فِي رِزْقِهٖ وَيُنْسَأَ لَهٗ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحب أن يبسط له في رزقه وينسأ له في أثره فليصل رحمه .(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو چاہے کہ اس کے رزق میں وسعت دی جاوے اور اس کی موت میں دیر کی جاوے ۱∞؎تو وہ صلہ رحمی کرے۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نساءکہتے ہیں دیر لگانے کو اس لیے ادھار کونسیہکہا جاتا ہے کہ وہاں مال دیر سے ملتا ہے۔اثرکہتے ہیں نشان قدم کو،مرنے سے نشان قدم جاتے رہتے ہیں کہ پھر انسان چلتا پھرتا نہیں،پھر زندگی کواثرکہنے لگے کہ زندگی میں نشان قدم زمین میں پڑتے ہیں۔موت میں دیر لگانے سے مراد ہے عمر دراز دینا یعنی جو رزق میں برکت عمر میں درازی چاہے وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔خیال رہے کہ تقدیر تین قسم کی ہے: مبرم،معلق،مشابہ مبرم،تقدیر مبرم میں کمی و بیشی ناممکن ہے مگر باقی دو تقدیروں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔دعا نیک اعمال سے عمر بڑھ جانے اور بد دعا بدعمل سے عمر گھٹ جانے کا یہ ہی مقصد ہے کہ آخری دو قسم کی عمریں گھٹ بڑھ جاتی ہیں۔ہم یہ مسئلہباب القدرمیں بیان کرچکے ہیں اور تفسیرنعیمی کے پہلے پارہ میں بھی عرض کرچکے ہیں۔دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے ساٹھ سال کے سو۱۰۰ برس ہوگئی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وفات یافتہ لوگ جی جاتے تھے اور زندہ رہتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4918