Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4914

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ آلَ فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيَِّ اللّٰهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَلٰكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبُلُّهَابِبَلَالِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن آل فلان ليسوا لي بأولياء إنما ولي الله وصالح المؤمنين ولكن لهم رحم أبلهاببلالها. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله کو فرماتے سنا کہ فلاں قبیلہ میرے دوست نہیں ۱∞؎میرے دوست الله تعالٰی اور نیک کار مسلمان ہیں ۲؎لیکن ان کا رشتہ رحمی ہے جس کی تری سے میں تر کروں گا ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے ان کا نام لیا تھا مگر راوی نے نام نہ لیا کیونکہ وہ لوگ اس وقت برسر اقتدار تھے ان سے خطرہ تھا۔بہرحال اس سے مراد یا ابولہب کی اولاد ہے یا ابوسفیان کی اولاد یا حکم ابن عاص کی اولاد مگر قوی یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے قریشی ہاشمی تمام قوموں کو شامل ہے۔(مرقات)جو بھی اسلام سے یا حضور صلی الله علیہ وسلم کے طریقہ سے ہٹ جاوے وہ حضور کا دوست نہیں۔
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ متقی مسلمان خواہ کسی خاندان کا ہو مجھے پیارا ہے کافر و بے ایمان اگرچہ ہماری نسل سے ہو مردود ہے،قرآن حکیم فرماتاہے:"اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوۡنَ
۳
؎خیال رہے صلہ رحمی کرنے،رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کوبللیعنی تری کہتے ہیں کیونکہ تری سے چیز جڑتی ہے خشکی سے ٹوٹ جاتی ہے،یوں ہی سلوک کرنے سے دل جڑتے ہیں بدسلوکی سے دل ٹوٹ کر الگ الگ ہوجاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4914