Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4945

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كلُّ الذَّنُوْبِ يَغْفِرُ اللّٰهُ مِنْهَا مَا شَآءَ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّهٗ يُعَجَّلُ لِصَاحِبِهٖ فِي الْحَيَاةِ قَبْلَ الْمَمَاتِ

وعن أبي بكرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابی بکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تمام گناہوں میں سے الله جو چاہے بخش دے گا ۱∞؎سوا ماں باپ کی نافرمانی کے کہ اس شخص کے لیے موت ہے پہلے زندگی میں ہی سزا دیتا ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی الله تعالٰی ہر قسم کے گناہ صغیرہ و کبیرہ اگر چاہے گا تو معاف فرمادے گا اس قاعدے سے شرک و کفر اور حق العباد خارج ہیں کہ شرک و کفر تو زندگی میں ایمان لائے بغیر معاف نہیں ہوتے اور حقوق العباد ادا کیے بغیر معاف نہیں ہوتے،نیز تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے جو کہ آگے آرہا ہے۔
۲
؎لصاحبہمیںہضمیر عقوق کی طرف ہے اورالمماتمیں الف لام مضاف الیہ کی عوض ہے اس سے مراد یا تو خود یہ نافرمان بیٹا ہے یا ماں باپ۔خیال رہے کہ یہ فرمان عالی سخت ناراضی کے اظہار کے لیے ہے لازمی قانون کے لیے نہیں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَكَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔(مرقات)یا اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جس گناہ پر دنیا میں بھی عذاب آجاتا ہے وہ ماں باپ کو ستانا ہے،شرک و کفر پر دنیا میں عذاب آنا لازم نہیں،ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں چین نہیں پاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4945