Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4940

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي اِمْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا. فَقَالَ لِي: طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ. فَأَتٰى عُمَرُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهٗ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلِّقْهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عمر قال: كانت تحتي امرأة أحبها وكان عمر يكرهها. فقال لي: طلقها فأبيت. فأتى عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: طلقها . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس بیوی تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر اسے ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو ۱∞؎میں نے انکار کیا تو حضرت عمر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس واقعہ کا حضور سے ذکر کیا تو مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اسے طلاق دے دو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎شاید اس بی بی میں کوئی دینی خرابی ہوگی محض دنیاوی وجہ پر طلاق کا حکم نہ دیا ہوگا۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ امرو جوب کا ہے اور حضرت عبدالله ابن عمر پر اس حکم کی بنا پر طلاق دینا واجب ہوگیا۔مرقات نے فرمایا کہ امر استحباب کے لیے ہے یعنی بہتر یہ ہے کہ طلاق دے دو تاکہ تمہارے والد تم پر ناراض نہ ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4940