Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4930

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُوْلُ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی: أَنَا اللّٰهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهٗ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الرحمن بن عوف قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " قال الله تبارك وتعالی: أنا الله وأنا الرحمن خلقت الرحم وشققت لها من اسمي فمن وصلها وصلته ومن قطعها بتته ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ میں الله ہوں ۱∞؎اور میں رحمان ہوں میں نے رحم کو پیدا فرمایا ۲؎اور اس کے لیے اپنے نام سے نام مشتق کیا ۳؎تو جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے توڑوں گا ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی معبودحقیقی ہوں،سب سے غنی ہوں،سب کا داتا ہوں۔
۲
؎رحمسے مراد یا تو رحمی رشتے اور قرابت داریاں ہیں یا خاص رحم ہے یعنی بچہ دانی جو عورت کے پیٹ میں ہے کہ یہ تمام نسبی رشتوں کا ذریعہ ہے۔
۳
؎یعنی اپنے نام سے اس کا نام بنایا یہاں اشتقاق صرفی مراد نہیں کہ اس قاعدہ سے تو لفظرحمنبنا ہےرحمسے۔
۴
؎یعنی جو رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے گا میں اسے اپنے سے ملالوں گا اور اپنی رحمت تک پہنچادوں گا اور جو ان کے حقوق ادانہ کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا میں اسے اپنی رحمت سے دور کروں گا جو مجھ سے ملنا چاہے وہ اپنے عزیزوں کے حق ادا کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا میں اسے اپنی رحمت سے دور کروں گا جو مجھ سے ملنا چاہے وہ اپنے عزیزوں کے حق ادا کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4930