Main Icon

باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4913

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّيْ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّ أُمِّيْ قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ صِلِيْهَا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أسماء بنت أبي بكر قالت: قدمت علي أمي وهي مشركة في عهد قريش فقلت: يا رسول الله إن أمي قدمت علي وهي راغبة أفأصلها؟ قال: نعم صليها . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ میری ماں آئیں جب کہ وہ قریش میں مشرکہ تھیں ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول الله میری ماں میرے پاس آئی ہیں وہ دین سے دور ہیں۲؎کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں فرمایا ہاں کرو
۳
؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎صلح حدیبیہ کے بعد کفار مدینہ منورہ آنے جانے لگے تھے اس دوران میں حضرت ابوبکر صدیق کی پہلی بیوی حضرت اسماء کی والدہ آئیں۔
۲
؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںراغمۃہے میم سے مگر اکثر نسخوں میںراغبۃب سے ہے،راغمۃمیم سے بمعنی عاجز،ذلیل،خوار،مسکین و غریب یعنی وہ میرے پاس عاجز و محتاج ہوکر آئی ہے میرے مال کی حاجت مند ہے۔راغبۃب سے ہو تو اس میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ بمعنی رغبت خواہش ہو یعنی وہ میرے مال میری خدمت کی خواہش مند ہے،دوسرے یہ کہ بمعنی بے رغبتی و روگردانی ہو یعنی وہ اسلام سے بے رغبت ہے اسے اسلام کی طرف رغبت و میلان نہیں،اگر رغبت کے بعدفیہو تو بمعنی میلان ہوتی ہے اگرعنہو تو بمعنی بے رغبتی۔
۳
؎معلوم ہوا کہ کافرومشرک ماں باپ کی بھی خدمت اولاد پر لازم ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ مشرک باپ کو بت خانہ لے نہ جائے مگر جب وہاں پہنچ چکا ہو تو وہاں سے گھر لے آئے کہ لے جانے میں بت پرستی پر مدد ہے اور لے آنے میں خدمت ہے،دوسرے عزیز و قرابت داربھی اگر مشرک و کافر ہوں مگر محتاج ہوں تو ان کی مالی خدمت کرے۔(از اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4913