Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5986

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسْدٍ وَغَطَفَانَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي بكرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أسلم وغفار ومزينة وجهينة خير من بني تميم وبني عامر والحليفين بني أسد وغطفان» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اسلم اور غفار اور مزینہ جہینہ بہتر ہیں بنی تمیم اور بنی عامر اور دونوں حلیفوں بنی اسد اور بنی غطفان سے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ مذکورہ چار قبیلہ بنی تمیم و بنی عامر سے افضل ہیں کیونکہ یہ چاروں قبیلے بنی تمیم سے پہلے اسلام لائے اور ان میں ایمان کے آثار بہت قوی ہیں۔خیال رہے کہ تمیم اس قبیلہ کے مورث اعلیٰ کا نام ہے۔ایک بار حضور انور نے بنی تمیم سے فرمایا تھا کہ بشارت قبول کرو یہ بولے حضور آپ نے ہم کو بشارتیں تو دے دیں ہم کو کچھ مال دیجئے،حضور انور کو اس جواب سے بہت صدمہ ہوا اور بنی اشعر قبیلہ سے فرمایا کہ اگر بنی تمیم نے بشارت قبول نہ کی تو تم قبول کرو اور انہوں نے بہت خوشی سے کہا کہ ہم قبول کرتے ہیں یارسول الله۔قبیلہ بنی اسعد اور بنی غطفان زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے کہ ہم میں سے جس پر کوئی آفت آئے تو دوسرا اس کی مدد کرے جیساکہ عرب میں دستور تھا۔بہرحال وہ چار قبیلے ان قبیلوں سے افضل ہیں،وجہ افضلیت حضور ہی جانتے ہیں ہمارا تو ان کی زبان ان کے فرمان پر ایمان ہے جس کو افضل کردیا وہ افضل ہے جسے نیچا کردیا وہ نیچا ہے؎قسم خدا کی نہ اٹھ سکا قیامت تک کہ جس کو تو نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5986