Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6004

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَاهُ رَجُلَانِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا: إِنَّ النَّاسَ صَنَعُوا مَا تَرٰى وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ؟ فَقَالَ: يَمْنَعُنِيْ أَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَیَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ. قَالَا: أَلَمْ يَقُلِ اللّٰهُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:قَدْ قَاتَلْنَا حَتّٰى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ لِلّٰهِ وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتّٰى تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللّٰهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن نافع ان ابن عمر أتاه رجلان في فتنة ابن الزبير فقالا: إن الناس صنعوا ما ترى وأنت ابن عمر وصاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فما يمنعك أن تخرج؟ فقال: يمنعني أن الله حرم علی دم أخي المسلم. قالا: ألم يقل الله: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة فقال ابن عمر:قد قاتلنا حتى لم تكن فتنة وكان الدين لله وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة ويكون الدين لغير الله. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر کے پاس ابن زبیر کے فتنہ کے زمانہ میں دو آدمی آئے ۱؎بولے کہ لوگ جو کر رہے ہیں وہ آپ دیکھتے ہیں اور آپ حضرت عمر کے بیٹے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابی ہیں آپ کو بغاوت سے کون چیز مانع ہے ۲؎فرمایا کہ مجھے مانع یہ ہے کہ الله نے مجھ پر میرے مسلمان بھائی کا خون حرام کردیا ۳؎وہ بولے کہ کیا الله نے یہ نہ فرمایا کہ ان سے جنگ کرو حتی کہ فتنہ نہ رہے ۴؎ابن عمر بولے کہ وہ جنگ تو ہم کرچکے حتی کہ فتنہ نہ رہا ۵؎اور دین الله کا ہوگیا اور تم لوگ چاہتے ہو کہ جنگ کرو حتی کہ فتنہ ہوجاوے اور دین غیر الله کا ہوجاوے ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابھی حضرت ابن زبیر شہید نہیں ہوئے تھے بلکہ حجاج سے جنگ کی تیاری تھی اس وقت ان دونوں نے حضرت عبدالله ابن عمر سے یہ کہا۔
۲
؎یعنی آپ امام المرسلین صلی الله علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور امیر المؤمنین فاروق اعظم کے فرزند آپ خلافت کے زیادہ مستحق ہیں،آپ خلافت کا اعلان فرمادیں اور حجاج کا مقابلہ کریں یا کم از کم حضرت عبدالله ابن زبیر کی امداد فرما دیں۔
۳
؎یعنی ان جنگوں میں دو طرفہ مسلمان ہیں میں جس کے ساتھ شریک ہوا تو میرے ہاتھ سے مسلمان ہی مارے جائیں گے اور قتل مسلم حرام ہے۔خیال رہے کہ حضرت ابن عمران صحابہ سے ہیں جو ان تمام جنگوں کو فتنہ سمجھتے تھے اور ان سے علیحدگی میں عافیت و ثواب جانتے تھے۔بعض صحابہ نے ان جنگوں کو بغاوت سمجھا وہ حکومت کے ساتھ شریک ہوگئے،بعض نے حکومت کو غلط سمجھا وہ مخالفین کے ساتھ شریک ہوئے،حضرت ابن عمر ہمیشہ ان تمام جنگوں میں علیحدہ رہے ہر جماعت کے علیحدہ دلائل تھے ان کا یہ اختلاف اجتہادی تھا ان میں سے کوئی گنہگار نہ تھا۔
۴
؎یعنی اے ابن عمر یہ جنگ برحق ہے فتنہ مٹانے کے لیے ہے آپ ضرور اس میں شرکت کریں۔
۵
؎یعنی اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک و کفر ہے اور جنگ سے مراد ہے کفار سے جہاد یعنی ہم کفار سے جہاد حضور صلی الله علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں کرچکے اب یہ جنگیں مسلمانوں کی آپس میں ہیں جو نرا فساد ہیں۔
۶
؎یعنی تمہاری لڑائیوں کا انجام یہ ہوگا کہ مسلمان کمزور پڑ جائیں گے کافر حکومتیں تمہارے مقابل دلیر ہوجائیں گی،خطرہ ہے کہ اسلام کمزور ہوجائے گا یہ ملکی جنگ ہے دینی جہاد نہیں۔شعر
جنگ شاہاں فتنہ و غارتگری است جنگ مؤمن سنت پیغمبری است
آپ کے کلام میں پہلے فتنہ سے مراد کفر اور اس دوسرے فتنہ سے مراد ہے امن سوزی یعنی گزشتہ جہاد دفع کے لیے تھے اور اب یہ قتال اسلام کی جڑیں ہلادینے کے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6004