Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6003

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي نَوْفَلٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلٰى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتّٰى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هٰذَاأَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هٰذَاأَمَا وَاللّٰهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هٰذَاأَمَا وَاللّٰهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولًا لِلرَّحِمِ أَمَا وَاللّٰهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ شَرُّهَا لَأُمَّةُ سَوْءٍ - وَفِي رِوَايَةٍ لَأُمَّةُ خَيْرٍ - ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللّٰهِ وَقَوْلُهٗ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهٖ فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰى أُمِّهٖ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهٗ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ. قَالَ: فَأَبَتْ وَقَالَتْ: وَاللّٰهِ لَا آتِيْكَ حَتّٰى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُني بِقُرُونِي. قَالَ: فَقَالَ: أَرُونِي سِبْتِيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتّٰى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللّٰهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللّٰهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهٖ طَعَامَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ وَأَمَّا الْآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنهُ أَمَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا: «أَنَّ فِي ثَقِيْفٍ كَذَّابًا وَمُبِيْرًا» . فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاه. قَالَ فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي نوفل معاوية بن مسلم قال: رأيت عبد الله بن الزبير على عقبة المدينة قال فجعلت قريش تمر عليه والناس حتى مر عليه عبد الله بن عمر فوقف عليه فقال: السلام عليك أبا خبيب السلام عليك أبا خبيب السلام عليك أبا خبيب أما والله لقد كنت أنهاك عن هذاأما والله لقد كنت أنهاك عن هذاأما والله لقد كنت أنهاك عن هذاأما والله إن كنت ما علمت صواما قواما وصولا للرحم أما والله لأمة أنت شرها لأمة سوء - وفي رواية لأمة خير - ثم نفذ عبد الله بن عمر فبلغ الحجاج موقف عبد الله وقوله فأرسل إليه فأنزل عن جذعه فألقي في قبور اليهود ثم أرسل إلى أمه أسماء بنت أبي بكر فأبت أن تأتيه فأعاد عليها الرسول لتأتيني أو لأبعثن إليك من يسحبك بقرونك. قال: فأبت وقالت: والله لا آتيك حتى تبعث إلي من يسحبني بقروني. قال: فقال: أروني سبتي فأخذ نعليه ثم انطلق يتوذف حتى دخل عليها فقال: كيف رأيتني صنعت بعدو الله؟ قالت: رأيتك أفسدت عليه دنياه وأفسد عليك آخرتك بلغني أنك تقول له: يا ابن ذات النطاقين أنا والله ذات النطاقين أما أحدهما فكنت أرفع به طعام رسول الله صلى الله عليه وسلم وطعام أبي بكر من الدواب وأما الآخر فنطاق المرأة التي لا تستغني عنه أما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنا: «أن في ثقيف كذابا ومبيرا» . فأما الكذاب فرأيناه وأما المبير فلا إخالك إلا إياه. قال فقام عنها ولم يراجعها. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو نوفل معاویہ ابن مسلم سے فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالله ابن زبیر کو مدینہ کی گھاٹی پر دیکھا ۱؎فرماتے ہیں کہ قریش اور لوگ ان پر گزرنے لگے حتی کہ ان پر عبدالله ابن عمر گزرے ۲؎تو ان پر رک گئے پھر بولے اے ابو خبیب تم پر سلام اے ابو خبیب تم پر سلام اے ابو خبیب ۳؎خدا کی قسم میں تم کو اس سے منع کیا کرتا تھا خدا کی قسم میں تم کو اس سے منع کیا کرتا تھا خدا کی قسم تم کو اس سے منع کیا کرتا تھا۴؎خدا کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں تم بہت روزہ نماز والے صلہ رحمی کرنے والے تھے ۵؎خدا کی قسم جس گروہ کے نزدیک تم برے ہو وہ برا گروہ ہے ۶؎اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اچھا گروہ ہے ۷؎پھر عبدالله ابن عمر چلے گئے پھر حجاج کو عبدالله کے ٹھہرنے اور ان کی گفتگو کی خبر پہنچی تو ان کی لاش پر آدمی بھیجا وہ اپنی شاخ سے اتارے گئے پھر یہود کے قبرستان میں ڈال دیئے گئے ۸؎پھر اس نے ان کی والدہ اسماء بنت ابوبکر کو بلوایا انہوں نے آنے سے انکار کیا اس نے دوبارہ قاصد سے کہلا بھیجا کہ یا تو میرے پاس آجاؤ ورنہ تمہارے پاس اس کو بھیجوں گا جو تم کو بالوں سے کھینچے گا
۹
؎فرماتے ہیں کہ انہوں نے انکار ہی کیا بولیں خدا کی قسم میں تیرے پاس نہیں آؤں گی حتی کہ میرے پاس اسے بھیجے جو میرے بال پکڑ کر مجھے گھسیٹے ۱۰؎فرماتے ہیں وہ بولا میری جوتی ۱۱؎دکھاؤ اس نے اپنی جوتی لی پھر اکڑتا ہوا چلا ۱۲؎حتی کہ ان کے پاس پہنچ گیا بولا تم نے مجھے دیکھ لیا کہ میں نے الله کے دشمن سے کیسا سلوک کیا ہے آپ بولیں کہ میں نے تجھے دیکھا کہ تو نے انکی دنیا ان پر بگاڑ دی اور انہوں نے تجھ پر تیری آخرت بگاڑ دی۱۳؎مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو ان سے کہتا ہے کہ اے دو کمر بند والی کے بیٹے خدا کی قسم میں دو کمر بند والی ہوں ان میں سے ایک تو ۱۴؎اس سے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا کھانا اور حضرت ابوبکر کا کھانا جانوروں سے اٹھاتی تھی ۱۵؎رہا دوسرا تو وہ ہی کمر بند ہے جس سے عورت بے نیاز نہیں ہوتی آگاہ رہ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم کو خبر دی تھی کہ قبیلہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہوگا اور ایک فسادی ہلاکت والا جھوٹا تو ہم نے دیکھ لیا رہا فسادی تو میں تجھے نہیں سمجھی مگر وہی ۱۶؎راوی فرماتے ہیں کہ ان کے پاس سے اٹھ گیا انہیں کوئی جواب نہ دیا ۱۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎سیدنا عبدالله ابن زبیر کو حجاج ابن یوسف نے سولی پر چڑھایا،یہ واقعہ مکہ معظمہ میں ہوا مگر انہیں مدینہ منورہ کے راستہ پر سولی دی گئی اس لیے عقبۃ المدینہ ارشاد ہوا۔بعد کو ان کی قبر مقام جیحون میں بنائی گئی۔یہاں مرقات میں ہے کہ مکہ معظمہ میں جنت معلی کی تمام قبریں حتی کہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کی قبر بھی حضرات اولیاء الله کے کشف سے بنائی گئی ہے تاریخی لحاظ سے ان کی قبروں کے مقامات کا پتہ نہیں چلتا۔
۲
؎حضرت عبدالله ابن زبیر کو برسر راہ سولی پر لٹکایا گیا تھا لوگ گزرتے تھے اور ان کی لاش کو لٹکا ہوا دیکھتے تھے ان پر حضرت ابن عمر بھی گزرے انکی لٹکی ہوئی لاش دیکھی۔
۳
؎حضرت ابن زبیر کی بڑے بیٹے کا نام خبیب تھا اس لیے آپ کی کنیت ابو خبیب ہے۔ اس لیے معلوم ہوا کہ میت کو دفن سے پہلے بھی سلام کرنا جائز ہے اور تین بار سلام کرنا ثابت ہے۔
۴
؎حضرت ابن زبیر نے اولًا تو یزید کی بیعت نہیں کی بلکہ بہت سے علاقہ پر خود حاکم بن گئے پھر مروان پھر عبدالملک ان میں سے کسی کی بیعت نہ کی تھی حتی کہ عبدالملک نے حجاج ابن یوسف کو آپ کے مقابل بھیجا،حجاج نے آپ کو قتل کرکے آپ کا سر مدینہ منورہ بھیج دیا اور جسم کو راستہ میں سولی پر لٹکا دیا جو لشکر یزید نے مدینہ پر حملہ کرنے بھیجا تھا جس نے وہاں قیامت ڈھا دی وہ لشکر اس موقعہ پر مکہ معظمہ آیا اس نے حضرت ابن زبیر سے جنگ کرکے آپ کو قتل کیا حضرت ابن عمر اسی کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ میں نے تم کو منع کیا تھاکہ خلافت و امارت کے جھگڑوں میں نہ پڑو تم نے میری بات نہ مانی دیکھ لو اس کا انجام کیا ہوا۔(اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد لاشوں سے کلام سلام جائز ہے،حضور نے ابوجہل وغیرہ کی لاشوں سے صالح اور شعیب علیہ السلام نے عذاب شدہ کفار کی لاشوں سے کلام فرمایا۔
۵
؎یعنی جہاں تک مجھے علم ہے تم بڑے عابد و زاہد صحیح معاملات والے تھے،حضرت ابن زبیر بہت روزے رکھتے تھے حتی کہ کبھی مسلسل پندرہ دن تک روزے رکھتے قائم اللیل تھے۔
۶
؎یعنی حجاج ابن یوسف کی قوم جو تم کو برا سمجھتی ہے وہ بدترین قوم ہے تم اچھے ہو وہ قوم ہی بری ہے حجاج ابن زبیر کو عدو الله یعنی الله کا دشمن کہتا تھا اس کی تردید میں آپ نے یہ فرمایا۔
۷
؎یہ عبارت یا تو راوی کی غلطی ہے یا آپ نے بطور تمسخر یہ فرمایا کہ وہ بڑی اچھی جماعت ہے یعنی وہ اپنے کو اچھا سمجھتی ہے حالانکہ ہے بری۔
۸
؎سیدنا عبدالله ابن عمر ان تمام جنگوں میں الگ تھلگ رہے تھے،نیز حضرت عمر فاروق کے صاحبزادے بڑے متبع سنت علم و عمل کے جامع تھے ان وجوہ سے ان کا بڑا احترام تھا۔جب حجاج کو پتہ چلا کہ حضرت ابن عمر نے یہ فرمایا ہے تو اسے خطرہ ہوا کہ اگر اب عبدالله ابن زبیر کی لاش سولی پر رہی تو لوگوں میں زبردست اشتعال پیدا ہوگا،ممکن ہے کہ لوگ بھڑک جاویں اور ملک میں فساد ہوجاوے اس لیے آپ کی لاش یہود کے قبرستان میں ڈلوادی،اب وہ قبرستان لاپتہ ہے پھر مسلمانوں نے ان کی لاش جنت معلی میں دفن کی بہت عرصہ کے بعد۔(اشعہ)
۹
؎حضرت اسماء بنت ابوبکر الصدیق رضی الله عنہا حضرت عائشہ صدیقہ کی بہن حضور انور کی سالی ہیں،صحابیہ ہیں،حجاج ظالم کو کسی کی بزرگی کا بھی لحاظ نہ تھا اس نے بی بی اسماء کو اپنے دربار میں حاضر کرنا چاہا۔
۱۰
؎یعنی میں اپنی خوشی اپنے اختیار سے تیرے پاس نہیں آؤں گی ہاں اگر تو نے جبرًا بلا لیا تو میں مجبور ہوں گی۔
۱۱
؎سبتوہ جوتا جس پر بال نہ ہوں یعنی بال منڈے ہوئے چمڑے کی جوتی،سبتبمعنی مونڈنا صاف کرنا،بعض نے فرمایا کہ سبت ایک جگہ کا نام ہے جسےسوق البستکہتے ہیں۔عرب میں وہاں کا جوتا عام پہنا جاتا ہے جیسے ہمارے ملک میں تلہ گنگ کا جوتا یا ہندوستان میں دہلی کا جوتا۔
۱۲
؎توذفکے معنی ہیں قریب قریب قدم ڈال کر چلنا جیساکہ متکبرین کا طریقہ ہے یعنی وہ اکڑتا مٹکتا ہوا چلا نہایت فخروتکبر سے۔
۱۳
؎اس بدنصیب نے حضرت اسماء سے تعزیت کرنے کی بجائے الٹا ان کو طعنہ دیا ان کا جوان بیٹا شہید کیا اور پھر زخم دل پر یہ نمک چھڑکا اپنے دشمن کو الله کا دشمن کہا،یعنی اے اسماء تم نے دیکھ لیا کہ میں نے تمہارے بیٹے الله کے دشمن کو کس طرح تکالیف کے ساتھ شہید کیا۔سبحان الله!کیسا پیارا جواب دیا کہ تو نے انہیں شہید کرکے ان کی دنیا ختم کردی مگر انہوں نے تیرے ہاتھوں شہید ہوکر تجھے ظالم بناکر تیری آخرت تباہ کردی،تجھے دوزخ کا مستحق بنادیا،انہیں صرف پانچ منٹ کی تکلیف ہوئی تو دائمی عذاب کا مستحق ہوگیا؎پنداشت ستمگر کہ ستم برما کرد برگردن او بماند برما بگذشت
۱۴
؎حجاج مردود حضرت عبدالله ابن زبیر کو ماں کی گالی دیتا تھا کہ اے دو کمر بند والی عورت کے بیٹے،اس کا مقصد یہ تھا کہ تمہاری ماں لونڈی ہیں کہ مولٰی کی خدمت کے لیے اپنی کمر دو نالوں سے باندھتی ہیں تم لونڈی کے بیٹے ہو،آپ فرماتی ہیں کہ اے مردود یہ لقب میرے لیے باعث فخر ہے مجھے حضور کی طرف سے ایک خدمت کے صلہ میں بطور خطاب ملا ہے تو اسے میرے لیے بطور گالی بناتاہے۔
۱۵
؎اس عبارت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہدواببمعنی کیڑے مکوڑے ہے اورارفعکے معنی میں محفوظ کرتی تھی۔ یعنی ہجرت کے دن میں نے اپنے کمر بند کے ایک ٹکڑے سے حضور صلی الله علیہ وسلم اور صدیق اکبر کا کھانا باندھا تھا تاکہ وہ مکھی مچھر وغیرہ سے محفوظ رہے حضور اپنے سات لے جائیں۔دوسرے یہ کہدوابسے مراد گھوڑے ہیں یعنی میں نے اپنے کمر بند سے کھانا باندھا تاکہ وہ گھوڑے کی پیٹھ سے گرنہ جائے۔(اشعہ)مگر پہلے معنی قوی ہیں کیونکہ حضور صلی اعلیہ وسلم اور جناب صدیق اپنے گھر سے ہجرت کے وقت گھوڑے پر سوار نہ تھے پیدل گئے تھے،غار ثور سے نکل کر اونٹ پر سوار ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لقب میرے لیے باعث فخر ہے میں نے اپنے کمربند سے حضور انور کی خدمت کی تھی کہ ہجرت کے وقت جلدی میں کوئی مجھے ڈوری یا چیز نہیں ملی تو میں نے اپنا کمر بند کاٹ کر اس سے حضور کے کھانے کا دسترخوان باندھ دیا دوسرا اپنے پاجامہ میں رکھا،حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے محبت میں فرمایا کہ تم ذات النطاقین یعنی دو کمر بند والی ہو،اس دن سے میرا لقب یہ ہی ہوگیا اور مجھے اس لقب پر ناز ہے۔
۱۶
؎مبیربنا ہےابارۃسے جس کا مادہبورہے بمعنی ہلاکت"کُنۡتُمْ قَوْمًۢا بُوۡرًا"۔یہاں مراد ہے قاتل ظالم سفاک واقعی حجاج جیسا ظالم قاتل کوئی نہ ہوا ہوگا یعنی جھوٹا نبی مسیلمہ کذاب تو ہم سب نے دیکھ لیا اسے عہد صدیقی میں فنا بھی کردیا مگر فسادی قاتل تو ہی معلوم ہوتا ہے چونکہ تو اسلامی لباس میں ہے اس لیے محفوظ و سلامت ہے۔
۱۷
؎یہ حضرت اسماء کی کرامت ہی سمجھو کہ حجاج جیسے ظالم نے یہ سب کچھ سنا اور جواب نہ دیا چپکا چلا گیا۔حضرت عبدالله ابن زبیر کی شہادت کے دس دن بعد بی بی اسماء کا انتقال ہوگیا غالبًا اسی صدمہ میں آپ کی عمر شریف ایک سو برس ہوئی کوئی دانت نہ گرا تھا۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6003