Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5983

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلٰى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ».وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتّٰى تَقُومَ السَّاعَةُ أَويَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَاعَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر بن سمرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يزال الإسلام عزيزا إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش» . وفي رواية: «لا يزال أمر الناس ماضيا ما وليهم اثنا عشر رجلا كلهم من قريش».وفي رواية: «لا يزال الدين قائما حتى تقوم الساعة أويكون عليهم اثناعشر خليفة كلهم من قريش». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا ۱؎جو سارے کے سارے قریش کے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کا دین جاری رہے گا جب تک ان میں بارہ شخص والی ہوں جو سب قریش سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاوے یا ان پر بارہ خلیفہ ہوں جو سارے قریش سے ہوں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت نہیں یعنی خلافت راشدہ کیونکہ اس کی مدت صرف تیس سال ہے جو امام حسن پر ختم ہوتی ہے بلکہ خلافت امارت مراد ہے،خلیفہ بمعنی امیر ہے۔اہل سنت کے نزدیک اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ یہ واقعہ امام مہدی کے بعد سے قیامت تک ہوگا ڈیڑھ سو سال میں یہ بارہ خلفاء ہوں گے،پہلے پانچ خلیفہ سبط اکبر یعنی امام حسن کی اولاد ہیں،پھر پانچ خلیفہ سبط اصغر یعنی امام حسین کی اولاد میں،پھر ایک خلیفہ امام حسین کی اولاد میں جیساکہ بعض احادیث میں ہے۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے بعد سے لے کر قیامت تک یہ خلفاء مختلف وقتوں میں ہوں گے۔تیسرے یہ کہ حضور انور کے بعد سے مسلسل بارہ امیروں کے زمانہ تک دین غالب رہے گا کفار کا غلبہ نہ ہوسکے گا اگرچہ ان میں سے بعض فاسق ظالم ہوں گے جیسے یزید ابن معاویہ وغیرہ۔چوتھے یہ کہ آخری زمانہ میں بیک وقت بارہ بادشاہ مختلف ممالک میں ایسے ہوں گے جن کے سبب اسلام غالب ہوگا۔والله اعلم!(اشعۃ اللمعات)اس حدیث سے شیعہ اپنے بارہ امام ثابت کرتے ہیں جو حسب ذیل ہیں: علی،حسن،حسین،امام زین العابدین،محمد باقر،جعفر صادق،موسیٰ کاظم،علی رضا،محمدتقی،علی تقی،حسن عسکری،آخری میں امام مہدی کہ یہ حضرات خلفاء برحق ہیں یعنی مستحق خلافت اگرچہ ان میں سے اکثر بظاہر خلیفہ نہ ہوئے۔ (مرقات)مگر یہ قول صراحۃً باطل ہے کہ شیعہ کے نزدیک ان کا زمانہ تاقیامت ہے ان کے زمانوں میں دین کہاں غالب رہا دین مغلوب ہوگیا حتی کہ امام مہدی کو غار میں چھپ جانا پڑا اب وہ قریب قیامت ہی آئیں گے۔ اہل سنت کی مذکورہ چار شرحوں میں تیسری شرح قوی معلوم ہوتی ہے،ان میں بارہ بادشاہوں میں آخری بادشاہ ولید ابن یزید ابن عبدالملک ابن مروان ہے، اس بادشاہ کے قتل ہونے پر مسلمانوں میں بڑا اختلاف پیدا ہوگیا ،دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام۔خلافت راشدہ اور غیر راشدہ اور امارت و سلطنت کا فرق ملحوظ رہے۔
۲
؎ان دونوں روایتوں کے الفاظ مختلف ہیں مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5983