Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5997

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ. قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرٰى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: " ممن أنت؟ قلت: من دوس. قال: «ما كنت أرى أن في دوس أحدا فيه خير» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتےہیں کہ مجھ سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کس قبیلہ سے ہو ۱؎میں نے کہا کہ دوس سے ہوں فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسی چیز ہے جس میں بھلائی ہو ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب حضرت ابو ہریرہ ایمان لائے تو حضور انور نے ان سے ان کے قبیلہ کا نام پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں قبیلہ دوس سے۔ خیال رہے کہ دوس ابن عدنا ن ابن عبدالله اس قبیلہ کا مورث اعلیٰ ہے اس کی طرف یہ قبیلہ منسوب ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی ہمارا خیال تھا کہ قبیلہ دوس میں سارے لوگ ہی برے ہیں مگرماشاءاللهتم دوسی ہو اور اچھے ہو اس میں دوس قبیلہ کی برائی ہے اور حضرت ابو ہریرہ کی بہت تعریف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5997