Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6002

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا يُقْتَلُ قَرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هٰذَاالْيَوْمِ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عبد الله بن مطيع عن أبيه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم فتح مكة: «لا يقتل قرشي صبرا بعد هذااليوم إلى يوم القيامة» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مطیع سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فتح مکہ میں فرماتے سنا کہ اس دن کے بعد قیامت تک کوئی قرشی باندھ کر قتل نہیں کیا جاوے گا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مطیع کا نام عاصی ہے حضور انور نے ان کا نام مطیع رکھا،عبدالله ابن مطیع قرشی سرداروں میں سے ہیں،جب اہلِ مدینہ نے یزید سے بغاوت کی تو انہیں کو اپنا امیر بنایا تھا،آپ حضرت عبدالله ابن زبیر کے ساتھ قتل کیے گئے، ۷۳ھ؁ ∞میں عبدالله ابن زبیر نے آپ کو کوفہ کا حاکم بنایا مختار نے انہیں قتل کیا۔(مرقات)
۲
؎یعنی آئندہ کوئی قرشی مرتد نہ ہوگا تاکہ اپنے ارتداد کی وجہ سے باندھ کر قتل کیا جاوے یا یہ خبر بمعنی ممانعت ہے کہ کسی قرشی کو بلاوجہ باندھ کر قتل نہ کیا جاوے یا کسی معرکہ میں کوئی قرشی باندھ کر قتل نہ کیا جاوے گا لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور کے بعد ظالم حجاج نے بہت سے قرشی باندھ کر قتل کیے،یوں ہی اگر قرشی کسی کو قتل کردے تو اسے قصاص میں باندھ کر قتل کرنا جائز ہے۔(لمعات،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6002