Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6005

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللّٰهَ عَلَيْهِمْ فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهٗ يَدْعُو عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: جاء الطفيل بن عمرو الدوسي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن دوسا قد هلكت عصت وأبت فادع الله عليهم فظن الناس أنه يدعو عليهم فقال: «اللهم اهد دوسا وأت بهم». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ طفیل ابن عمرو دوسی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱؎بولے کہ دوس تو ہلاک ہوگئے انہوں نے نافرمانی کی اور انکار کیا تو ان پر الله سے بددعا کریں لوگ سمجھے کہ حضور ان پر بددعا کریں گے مگر فرمایا الٰہی دوس کو ہدایت دے اور انہیں یہاں پہنچا دے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎طفیل ابن عمرو کا لقب ذوالنور ہے کیونکہ جب حضور نے انہیں اپنی قوم کی طرف نمائندہ بناکر بھیجا تو ان کے عرض کرنے پر کہ میری نمائندگی کی کوئی نشانی عطا ہو حضور نے ان کی پیشانی چمکادی یہ نور آپ کے سامنے رہتا تھا پھر وہ نور ان کی لاٹھی میں منتقل ہوگیا وہ لاٹھی رات میں مشعل کی طرح چمکتی تھی،آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی تو آپ کی تبلیغ پر حضرت ابوہریرہ اور طفیل کے والد تو ایمان لائے والدہ ایمان نہ لائیں،آپ خلافت صدیق میں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے۔
۲
؎سبحان الله!یہ ہے کرم کریمانہ کہ خود دوسی شخص اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے بددعا چاہتے مگر رحمت والے محبوب انہیں دو دعائیں دیتے ہیں ایک ایمان کی دوسری ان کے مدینہ منورہ حاضر ہوکر حضور کو دیکھ کر صحابی بن جانے کی،الله نے حضور کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں یعنی الٰہی انہیں مؤمن بنا کر میرے پاس لا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6005