Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5981

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ هٰذَاالْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يزال هذاالأمر في قريش ما بقي منهم اثنان» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چیز قریش میں ہے جب تک کہ ان میں سے دو بھی رہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خلافت وہ سلطنت ہے جس میں نیابت رسول بھی ہو۔یہاںھذا الامرسے مراد خلافت اسلامیہ ہے اور یہ خبر بمعنی امر ہے یعنی اگر دنیا میں دو قریشی بھی رہ جائیں تب بھی خلیفۃ المسلمین قریشی ہی ہونا چاہیے کہ ایک قریشی خلیفہ ہو اور دوسرا قرشی اور باقی لوگ اس کی رعایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آج تو عرصہ سے حکومت قریشیوں سے نکل چکی ہے۔خیال رہے کہ خلیفہ صرف قرشی ہی ہوسکتا ہے مگر سلطان اسلام ہر مسلمان ہوسکتا ہے۔خلافت اور ملوکیت میں یہ فرق ہے کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے ملوکیت و سلطنت عام،پھر خلافت دو قسم کی ہے: خلافت راشدہ اور غیر راشدہ۔خلافت راشدہ خلفاء اربعہ ابو بکر صدیق،عمر فاروق،عثمان غنی اور حضرت علی پرختم ہوگئی۔اس کے چھ ماہ حضرت امام حسن نے پورے کیے،بعد میں خلافت غیر راشدہ یا ملوکیت ہوئی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ خبر ہی ہے مگر اس میں عدل و انصاف کی قید ہے جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ اگر قریش عادل و منصف رہیں تو خلافت ان ہی میں رہے گی اگرچہ دو قرشی ہوں جب کہ ان میں انصاف نہ رہا تو ان سے خلافت نکل جاوے گی تب بھی حدیث ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5981