Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5991

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْأَزْدُ أَزْدُ اللّٰهِ فِي الْأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَى اللّٰهُ إِلَّا أَنْ يَّرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ:يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًا وَيَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الأزد أزد الله في الأرض يريد الناس أن يضعوهم ويأبى الله إلا أن يرفعهم وليأتين على الناس زمان يقول الرجل:يا ليت أبي كان أزديا ويا ليت أمي كانت أزدية " رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ازد الله کا لشکر ہے زمین میں ۱؎لوگ انہیں پست کرنا چاہیں گے اور الله نہ چاہے گا مگر انہیں بلند کرنا ۲؎اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ کوئی کہے گا ہائے ہائے کاش کہ میرا باپ ازدی ہوتا اور ہائے کاش کہ میری ماں ازدیہ قبیلہ کی ہوتی۳؎(ترمذی)اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ازد شنوءہ ایک مشہور قبیلہ ہے جو ازد ابن یغوث کی اولاد سے ہے،سارے انصاری اس کی اولاد سے ہیں،یہ ازد ابن یغوث یمن میں رہتا تھا وہ ازد ابن یغوث ابن لیث ابن مالک ابن کہلان ابن سبا ہے،ان لوگوں کوازد اللهاس لیے کہا گیا کہ وہ پہلے ہی سے بڑے بہادر جنگ میں ثابت قدم رہنے والے تھے،پھر اس قبیلہ یعنی انصار نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی بہت شاندار خدمات انجام دیں اسلام کے پھیلانے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی کفار انہیں ذلیل کرنا چاہیں گے مگر الله تعالٰی ہمیشہ انہیں غالب اور عزت والا رکھے گا۔اس میں غیبی خبر ہے ایسا ہی ہوا اب تک انصار کا بڑا احترام ہے اور رہے گا۔
۳
؎یعنی قبیلہ ازد کی ایسی عزت ہوگی کہ لوگ اس پر رشک کریں گی حتی کہ بڑی عزت والے انسان بھی کہا کریں گے کہ کاش ہم بھی ازدی ہوتے حتی کہ کہا جاوے گا کہ ہماری ماں ہی ازدی ہوتی تو ہم کو اس نسبت سے شرف حاصل ہوتا۔معلوم ہوا کہ قبیلہ ازد کی بڑی عزت ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5991