Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6001

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اَلْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ» يَعْنِي الْيَمَنَ. وَفِي رِوَايَةٍ مَوْقُوفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاأصح

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الملك في قريش والقضاء في الأنصار والأذان في الحبشة والأمانة في الأزد» يعني اليمن. وفي رواية موقوفا. رواه الترمذي وقال: هذاأصح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سلطنت قریش میں ہے اور قضاء انصار میں ۱؎اور اذان حبشہ میں ۲؎اور امانتداری ازدیعنی یمن میں ہے ۳؎اور ایک روایت میں یہ حدیث موقوف ہے۔ (ترمذی)اور فرمایا یہ بہت صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مناسب یہ ہے کہ سلطان اسلام قرشی ہو نقیب یا وزیر انصاری ہوں۔چنانچہ حضور انور نے ہجرت سے پہلے ستر انصاریوں کو مدینہ منورہ کی نقابت اور سرداری کے لیے منتخب فرمایا۔بعض شارحین نے کہا کہ قضا سے مرادشخصی قاضی ہوتا ہے،انصار اسلام کا ستون ہیں انہیں کے شہر میں انہیں کے ذریعہ سے اسلام پھیلا،حضرت معاذ کو حضور انور نے یمن کا قاضی مقرر فرمایا۔
۲
؎کیوں نہ ہو کہ مؤذنوں کے سردار حضرت بلال حبشی ہیں جن کی اذان کی آواز عرش معلی تک پہنچتی تھی،ایک دن حضرت بلال کو اذان سے روک دیا گیا دوسرے شخص نے اذان دی تو وحی الٰہی آئی؎گفت ہاتف بردر خیر الورا چہ سبب بے بانگ شدبیت خدا
آج بغیر اذان نماز کیوں پڑھ لی حضور انور نے فرمایا کہ مولیٰ آج تو بڑی خوش الحانی سے اذان ہوئی ہے تو فرمایا
؎گفت ہاتف بازاز بانگ بلال خوش شدے برعرش رب ذوالجلال
۳
؎ازد ملک یمن کا ایک قبیلہ ہے،ازد فرمانے سے شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید یمن کے دوسرے قبیلوں میں امانت داری نہ ہو تو فرمایا کہ ازد سے ہماری مراد سارا یمن ہے سارے یمنی امین ہوتے ہیں کیوں نہ ہوں کہ حضرت اویس قرنی کے ہم وطن ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6001