Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6006

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ وَكَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَرَبِيٌّ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ".

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي والقرآن عربي وكلام أهل الجنة عربي رواه البيهقي في شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین وجہ سے عرب سے محبت کرو ۱؎کیونکہ میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور جنتی لوگوں کی بولی عربی ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎عرب سے مراد عرب کے مؤمنین ہیں،کفار عرب اور عرب کے یہود و نصاریٰ سے نفرت و عدوات ضرور ہے کہ یہ نفرت ان کے کفر سے ہے نہ کہ عربی ہونے سے۔مؤمنین عرب ہمارے سروں کے تاج ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے پڑوسی ہیں۔
۲
؎یہاں مرقات میں فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم عربی،قرآن مجید عربی،جنتیوں کی زبان عربی،قبر کا حساب عربی زبان میں ہے، عربی زبان تمام زبانوں سے زیادہ فصیح زیادہ مختصر ہے،عرب نے حضور سے شریعت لی ہم کو پہنچائی،انہوں نے ہی کفار سے اولًا جہاد کیے،انہوں نے ہی حضور کے اقوال و اعمال دیکھے اور سنے وہ اسلام کی اصل ہیں،انہوں نے ہی اطراف عالم میں اسلام پھیلایا،بدروحنین بلکہ یرموک اور قادسیہ وغیرہ غزوات انہوں نے ہی جیتے وہ حضرت اسمعیل کی اولاد ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخیوں کی عربی زبان نہیں ہوگی(مرقات)یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن وہ ہے جو عربی میں ہے،اس کے ترجمے قرآن نہیں نہ ان کی تلاوت نماز میں درست،حضرت جبریل علیہ السلام نے جو قرآن حضور کو سنایا وہ عربی تھا۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ مرتے ہی سب کی زبان عربی ہوجاتی ہے اس لیے قبر و حشر کے سارے کاروبار عربی میں ہوں گے،اہل جنت کی زبان عربی ہی رہتی ہے۔دوزخیوں کی زبان بدل جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6006