Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5993

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عِصْمَةَ يُقَالُ: الْكَذَّابُ هُوَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَالْمُبِيرُ هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا فَبَلَغَ مِائَةَ ألفٍ وَعِشْرِيْنَ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «في ثقيف كذاب ومبير» قال عبد الله بن عصمة يقال: الكذاب هو المختار بن أبي عبيد والمبير هو الحجاج بن يوسف قال هشام بن حسان: أحصوا ما قتل الحجاج صبرا فبلغ مائة ألف وعشرين ألفا. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہوگا اور ایک ہلاک کرنے والا،عبدالله ابن عصمہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جھوٹا تو مختار ابن ابی عبید ہے ۱؎اور ہلاک کرنے والا حجاج ابن یوسف ہے ۲؎ہشام ابن حسان نے کہا کہ انہیں گنو جنہیں حجاج نے باندھ کر قتل کیا ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ بنی ثقیف میں مختار ابن عبید ابن مسعود ثقفی ہوا ہے جو واقعہ کربلا کے بعد شہداء کربلا کا بدلہ لینے کے بہانہ اٹھا لشکر عظیم اس کے ساتھ ہوگیا،اس نے عبدالله ابن زیاد کو قتل کیا پھر دعویٰ نبوت کیا اور عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں مارا گیا اسی مختار کی قبر کوفہ میں ہے شیعہ لوگ اس قبر کا بڑا احترام کرتے ہیں مگر یہ مرا ہے مرتد ہو کر۔مختار کا باپ صحابی تھا، مختار ہجرت کے سال پیدا ہوا،۷۲ بہتّر میں اسے مصعب ابن عمیر نے قتل کیا سولہ مہینے حکومت کی۔(مرقات)
۲
؎حجاج ابن یوسف بادشاہ عبدالملک ابن مروان کی طرف سے عراق اور خراسان کا حاکم تھا،یہ واسط میں ہلاک ہوا شوال ۷۵ پچھتر میں مرا عمر چون۵۴ سال ہوئی۔
۳
؎یعنی جن مسلمانوں کو حجاج نے قتل کیا ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے اور جو مسلمان معرکہ جنگ میں شہید ہوئے ان کی تعداد پچاس ہزار ہے۔(اشعہ)دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ظالم ہوا ہو۔خدا کی پناہ !

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5993