Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5998

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ» قَلْتُ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللّٰهُ؟قَالَ:«تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن سلمان قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تبغضني فتفارق دينك» قلت:يا رسول الله كيف أبغضك وبك هدانا الله؟قال:«تبغض العرب فتبغضني».رواه الترمذي وقال:هذاحديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے۱؎میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی ۲؎فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضرت سلمان فارسی یعنی ایران کے رہنے والے تھے،عرب میں رہنے لگے۔بعض طبیعتوں میں صوبائی یا ملکی تعصب ہوتا ہے کہ ہمارا ملک ہمارا صوبہ اچھا دوسرا صوبہ وہاں کے لوگ برے اس کی پیش بندی فرماتےہوئے یہ ارشاد ہوا کہ یہاں فارسیت اور عربیت کا فرق نہ کرنا۔یہ کلام شریف اگلے کلام کی تمہید ہے ان تعصبوں سے الله بچائے مگر کس نفیس طریقہ سے تعلیم فرمائیسبحان الله!اپنے ذکر سے ابتداء فرمائی تاکہ ان کے قلب پر گہرا اثر ہو۔
۲
؎یعنی جب انسان اپنے ماں باپ سے عدوات نہیں کرتا جن سے جان ملتی ہے تو حضور سے تو ہم کو ایمان،قرآن عرفان بلکہ رحمان ملا تو کیسے ہوسکتا ہے کہ میں حضور سے بغض رکھوں۔
۳
؎یعنی عرب سے اس لیے نفرت کرنا کہ وہ عرب ہیں حضور سے بغض ہے کیونکہ حضور سرکار عربی ہیں ،قرآن عربی میں ہے لہذا مدینہ منورہ کے منافقین اور عرب کے یہودیوں،نجد کے وہابیوں سے نفرت کرنا ان سے بعض رکھنا بالکل درست ہےکہ اس میں کفر سے نفرت ہے نہ کہ ان کے عربی ہونے سے،حضور کی ہر منسوب چیز سے الفت رکھنا علامت ایمان ہے،اس نسبت سے نفرت کرنا علامت کفر ہے،دیکھو صفا مروہ پہاڑوں کو حضرت ہاجرہ سے نسبت ہے تو انہیں شعائر الله فرمایا"اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللهِ"اور شعائر الله کی تعظیم دلی تقویٰ ہے"وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللهِ فَاِنَّھَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5998