Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5996

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَہٗ رَجُلٌ أَحْسَبُهٗ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ اِلْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهٗ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنهُ ثمَّ جَاءَهٗ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللّٰهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ اِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ويُرْوَى عَنْ مَيْنَآءَ هٰذَاأَحَادِيثُ مَنَاكِيْرُ

وعن عبد الرزاق عن أبيه عن ميناء عن أبي هريرة قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فجاءہ رجل أحسبه من قيس فقال: يا رسول الله العن حميرا فأعرض عنه ثم جاءه من الشق الآخر فأعرض عنه ثم جاءه من الشق الآخر فأعرض عنه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «رحم الله حميرا أفواههم سلام وأيديهم طعام وهم أهل أمن وإيمان» . رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرزاق ويروى عن ميناء هذاأحاديث مناكير

حدیث ترجمہ

روایت ہے عبدالرزاق سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎وہ مینا سے وہ حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ بنی قیس سے تھا ۲؎بولا یارسول الله حمیر پر لعنت کیجئے ۳؎حضور نے اس سے منہ پھیر لیا وہ آپ کے پاس دوسری طرف سے آیا آپ نے اس سے منہ پھیر لیا پھر وہ اور طرف سے آیا حضور نے اس سے منہ پھیر لیا پھر نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا الله حمیر پر رحم کرے ۴؎ان کے منہ میں سلام ہے ان کے ہاتھوں میں کھانا ہے وہ امن اور ایمان والے ہیں ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اسے ہم نہیں جانتے مگر عبدالرزاق کی حدیث سے اور ان مینا سے منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ عبدالرزاق ابن ہمام ابن نافع ہیں،تبع تابعین میں سے ہیں اور یہ تابعی ہیں،ضعیف ہیں،عبدالرحمن ابن عوف کے غلام ہیں۔(اشعہ)
۲
؎یعنی وہ آنے والا شخص قبیلہ بنی قیس سے تھا،قیس غیلان ایک شخص تھا جس کا نام الیاس ابن مضر تھا،لقب قیس،اس کی اولاد کو بنی قیس کہا جاتا ہے۔(مرقات)
۳
؎شاید ان دونوں قبیلوں یعنی قیس اور حمیر کی آپس میں مخالفت ہوگی اس لیے اس نے بددعا کے لیے کہا اس وقت تک حمیر قبیلہ ایمان نہ لایا ہوگا۔
۴
؎حمیر بروزن درہم یمن کے مغربی شہر کا نام بھی ہے اور حمیر ابن سبا ابن یشحب ایک آدمی کا نام بھی ہے اس کی اولاد کو حمیر کہا جاتا ہے،اب یہ بہت بڑا قبیلہ ہے۔
۵
؎یعنی ان میں چار صفات ہیں: نرم زبان،سخی ہاتھ،دل میں امن کہ کسی کو ستاتے نہیں،کامل ایمان یا تو فی الحال ایمان والے ہیں یا آئندہ ایمان والے ہونے والے ہیں میں ان پر بد دعا کیسے کروں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5996