Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5999

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ اِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ

وعن عثمان بن عفان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من غش العرب لم يدخل في شفاعتي ولم تنله مودتي».رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب لا نعرفه الا من حديث حصين بن عمر وليس هو عند أهل الحديث بذاك القوي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو عرب سے خیانت کرے ۱؎وہ میری شفاعت میں داخل نہ ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اسے ہم نہیں پہچانتے مگر حصین ابن عمرو کی حدیث سے اور وہ محدثین کے نزدیک ایسے قوی نہیں ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎غشکے لفظی معنی ہیں ملاوٹ کرنا یہاں مراد ہے ان کی طرف سے دل میں کھوٹ رکھنا عداوت رکھنا ان سے خیانت کرنا۔ (اشعہ،مرقات،لمعات)
۲
؎حضور کی شفاعت کی بہت قسمیں ہیں: میدان محشر سے نجات دلانے کی شفاعت،گناہ معاف کرانے کی شفاعت،درجے بلند کرانے کی شفاعت۔پہلی شفاعت سے کفاربھی فائدہ اٹھائیں گے اور دوسری شفاعت ہم جیسے گنہگاروں کے لیے ہیں،آخری شفاعت ولیوں حتی کہ نبیوں کے لیے بھی ہے ،دوسری شفاعت کے لحا ظ سے حضور کو شفیع المذنبین کہاجاتاہے یہاں آخری شفاعت کی نفی ہے کیونکہ دوسری شفاعت تو گناہ کبیرہ والوں کی بھی ہوگی،فرماتے ہیںشفاعتی لاھل الکبائر من امتیاور اگر کسی نے عرب سے عربی ہونے کی وجہ سے بغض رکھا تو وہ کافر ہے اس کے لیے یہ شفاعت بھی نہیں۔
۳
؎یعنی یہ حدیث قوی نہیں مگر چونکہ فضائل اعمال میں ہے لہذا قبول ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اتنی اسنادوں سے مروی ہے کہ معنًی متواتر ہے۔چنانچہ حاکم نے انس سے مرفوعًا روایت فرمایاکہ عرب کی محبت ایمان سے ہے اور ان سے نفرت منافقت ہے۔طبرانی میں ہے کہ قریش سے محبت ایمان ہے ان سے عداوت کفر ہے جس نے عرب سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی،جس نے عرب سے عداوت رکھی اس نے مجھ سے عداوت رکھی۔حاکم نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعًا روایت کی کہ فقیروں سے محبت رکھو ان کے پاس بیٹھو،عرب سے دلی محبت کرو وغیرہ۔(مرقات)بہرحال یہ حدیث مختلف طریقوں سے مختلف اسنادوں سے مروی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5999