Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5990

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرُونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أبي عامر الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نعم الحي الأسد والأشعرون لا يفرون في القتال ولا يغلون هم مني وأنا منهم».رواه الترمذي وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو عامر اشعری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اسد اور اشعری لوگ بہترین قبیلے ہیں ۲؎وہ لوگ جنگ میں بھاگتے نہیں خیانت کرتے نہیں وہ مجھ سے ہیں میں ان سے ہوں۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت ابو موسیٰ اشعری کے چچا ہیں،عظیم الشان صحابی ہیں،غزوہ حنین میں شہید ہوئے،حضور انور نے آپ کی وفات پر دعا کی کہ الٰہی اسے بہت سوں کی سرداری عطا فرما۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎یہ دونوں قبیلے یمن کے ہیں ان میں بڑے بڑے صحابہ ہوئے۔
۳
؎یعنی ان قبیلوں میں تین وصف ہیں: بہادری کہ جنگ میں دشمن کے مقابلہ سے بھاگتے نہیں،امانت داری کہ کبھی خیانت نہیں کرتے،مجھ سے قرب روحانی کہ وہ مجھ سے قریب ہیں میں ان سے قریب،یہ تیسری بات سب سے اعلیٰ ہے۔قرب سے مراد روحانی اور دلی قرب ہے۔اس فرمان میں اشارہ اس جانب ہے کہ یہ لوگ متقی ہیں کیونکہ"اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوۡنَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5990