Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5985

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللّٰهِ وَرَسُولِهٖ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قريش والأنصار وجهينة ومزينة وأسلم وغفار وأشجع موالي ليس لهم مولى دون الله ورسوله». (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قریش اور انصار اور جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار اور اشجع آپس میں دوست ہیں ۱؎ان کا الله رسول کے سوا کوئی دوست نہیں ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎موالیاگریکے شد سے ہو تو معنی ہیں کہ یہ ساتوں قبیلے میرے دوست میرے پیارے ہیں اور اگریکے سکون سے ہو تو معنی یہ ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے اسلامی دوست ہیں ان کے دلوں میں غبار نہیں۔
۲
؎یعنی ان ساتوں قبیلوں کو صرف الله رسول سے محبت ہے،ان کی وجہ سے مسلمانوں سے الفت ہے،یہ کفر اور کفار سے بالکل محبت نہیں رکھتے ان سے کٹے ہوئے اور ان سے بے تعلق ہیں۔معلوم ہوا کہ کفار سے کٹا ہوا رہنا ایک محمود وصف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5985