Main Icon

باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5984

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارُ غَفَرَ اللّٰهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللّٰهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله وعصية عصت الله ورسوله» . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے غفار کی الله مغفرت کرے،سالم کو الله سلامت رکھے ۱؎اور عصیہ نے الله رسول کی نافرمانی کی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قبیلہ غفار اور اسلمہ بغیر جنگ و جدال اسلام لائے،ان میں بڑے بڑے نامور صحابہ ہوئے جیسے حضرت ابو ذر غفاری، ان وجوہ سے ان کی تعریف فرمائی۔قبیلہ غفار پہلے حاجیوں کی چوری میں بدنام تھا،حضور نے ان کی مغفرت کی دعا فرمائی کہ خدایا زمانہ جاہلیت میں جو انہوں نے گناہ کیے ہیں وہ معاف فرمادے،قبیلہ اسلمہ والوں کو اسلمی کہتے ہیں۔
۲
؎عصیہ قبیلہ وہ ہے جنہوں نے دھوکہ سے ستر قاری صحابہ کو بیر معونہ لے جا کر شہید کردیا جن پر حضور انور نے ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی یہ واقعہ مشہور ہے،ان کے متعلق ارشاد ہورہا ہے کہ اس نے الله و رسول کی نافرمانی کی لہذا یہ ہماری دعاؤں کا مستحق نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5984