Main Icon

باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1950

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: "نعم". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: إن رجلا قال للنبي -صلی اللہ عليه وسلم-: إن أمي افتلتت نفسها، وأظنها لو تكلمت تصدقت، فهل لها أجر إن تصدقت عنها؟ قال: "نعم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری ماں اچانک فوت ہوگئی میرا خیال ہے کہ اگر کچھ بولتیں تو خیرات کرتیں ۱؎تو کیا انہیں ثواب ہوگا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کردوں فرمایا ہاں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سائل حضرت عبادہ ابن عبادہ تھے،ان کی والدہ عمرہ بنت مسعود ابن قیس ابن عمرو ابن زید تھیں، ۵ھ میں ہاٹ فیل(Heart Fail)یعنی حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئیں،ناگہانی موت غافل کے لیے عذاب ہے کہ اسے توبہ اور نیک اعمال کا موقعہ نہیں ملتا مگر ذکر خدا میں رہنے والے مؤمن کے لیے رحمت کہ اللہ تعالٰی اسے بیماری کی شدتوں سے بچالیتا ہے لہذا حدیث پرکوئی اعتراض نہیں،آپ کی والدہ صحابیہ ہیں،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرچکی تھیں،بڑی عابدہ زاہدہ تھیں۔
۲
؎یعنی ہاں ان کی طرف سے تم صدقہ دو انہیں ضرور ثواب ملے گا۔لمعات میں حضرت شیخ نے فرمایا کہ اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے صدقہ اور اس کے لیے دعا کرنا سنت ہے اس سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے۔صدقہ کے ثواب پہنچنے میں تمام اہلِ حق کا اتفاق ہے البتہ بدنی عبادات کے متعلق علماء میں اختلاف ہے مگر حق یہ ہے کہ ان کا ثواب بھی پہنچتا ہے ہم بیرام سعد کی حدیث میں اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ اس قسم کی ایصال ثواب کی احادیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہیں کہ"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور نہ ا سکے کہ"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"کیونکہ ان آیات میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی طرف سے بدنی عبادتیں ادا نہیں کرسکتا کہ اس کی طرف سے نمازیں فرض ادا کردیا کرے یا روزے رکھ دیا کرے،ادائے فرض اور ہے ثواب کچھ اور اسی لیے آیات میںکسباورسعیکا ذکر ہوا نہ کہ ثواب کا،ایصال ثواب تو قرآن کریم کی آیت سے ثابت ہے،دیکھو ہماری کتاب"فہرست القرآن"۔ اشعۃ اللمعات میں اسی جگہ ہے کہ شیخ عزیز الدین عبدالسلام کو کسی نے ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھا فرمایا ہم دنیا میں توتلاوت قرآن کے ثواب پہنچنے کے منکر تھے مگر اس جہاں میں آکر پتہ لگا کہ اس کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1950