Main Icon

باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1952

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- النِّسَاءَ قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ،فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: "الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن سعد قال: لما بايع رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- النساء قامت امرأة جليلة كأنها من نساء مضر،فقالت: يا نبي الله! إنا كل على آبائنا وأبنائنا وأزواجنا، فما يحل لنا من أموالهم؟ قال: "الرطب تأكلنه وتهدينه". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ جب رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تو ایک شاندار عورت شاید وہ مضر کی عورتوں سے تھی ۱؎اٹھی اور بولی یا نبیہم تو اپنے باپ،دادوں،اولاد اور خاوندوں پر بوجھ ہیں ۲؎ہمیں ان کے مالوں سے کس قدر درست ہے فرمایا تر کھانا جسے تم کھالو اور ہدیہ دے سکو۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حسین صورت دراز قامت عزت و شرف والی کہ قبیلہ مضر کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے آج مصری لوگ یعنی غالبًا وہ بی بی قبیلہ مضرابن نزار سے تھیں۔
۲
؎یعنی یہ لوگ ہم کو ہمارے حق پورے نہیں دیتے ہم پر خرچ کرتے گھبراتے ہیں۔خیال رہے کہ لڑکی کا خرچ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ ہے شادی کے بعد خاوند کے ذمہ،صاحب اولاد ہونے کے بعد بیٹے پر ماں باپ کی ہر طرح کی خدمت لازم ہے مگر پھر بھی خاوند پر اس کا خرچہ رہے گا۔
۳
؎یعنی پکے ہوئے کھانے تر میوہ جو زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے انہیں خود بھی کھاؤ اور ہدیہ بھی دو ہر وقت علیحدہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان چیزوں کے ہدیہ کی عرفًا اجازت ہوتی ہے۔حق یہ ہے کہ یہ حدیث باپ،اولاد،خاوند سب کے مال کے متعلق ہے۔لڑکی باپ کے مال سے،ماں اولاد کے مال سے،بیوی خاوند کے مال سے بغیر صریحی اجازت کے اس قسم کی چیزوں میں سے صدقہ ہدیہ سب کچھ کرسکتی ہے حق یہ ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1952