Main Icon

باب: خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1951

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حُجَّةِ الْوَدَاعِ: "لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: "ذٰلِكَ أفضَلُ أَمْوَالِنَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أبي أمامة قال: سمعت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يقول في خطبته عام حجة الوداع: "لا تنفق امرأة شيئا من بيت زوجها إلا بإذن زوجها". قيل: يا رسول الله! ولا الطعام؟ قال: "ذلك أفضل أموالنا". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر خاوند کی اجازت کچھ خرچ نہ کرے ۱؎عرض کیا گیا یارسولکھانا بھی نہیں فرمایا یہ تو ہمارا بہترین مال ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بیوی خاوند کے مال سے بغیر اجازت خیرات نہ کرے اجازت خواہ صریحی ہو یا عرفی جیسے عام طور پر بیویوں کو خاوندوں کی طرف سے روٹی کا ٹکڑا،معمولی چیز خیرات کردینے،مہمانوں کی خاطر تواضح کردینے کی اجازت ہوتی ہے بلکہ خاوند اس پرمطلع ہوکر خوش ہوتے ہیں کہ ہماری بیوی سلیقہ مند ہے،مہمان نواز ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎یعنی کھانا تو بہتر ین مال ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے جب اپنے خاوند کی اجازت بغیرمعمولی چیز بھی خرچ نہیں کرسکتی تو کھانے جیسی بہترین چیز کیسے خیرات کرسکتی ہے،اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1951