Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4284

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ المَاءُ مِنَ السُّقْيَا. قِيلَ: هِيَ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يستعذب له الماء من السقيا. قيل: هي عين بينها وبين المدينة يومان. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا سے میٹھا پانی لایا جاتا تھا ۱؎کہا گیا ہے کہ وہ ایک چشمہ ہے کہ اس کے اور مدینہ کے درمیان دو دن کا راہ ہے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ کے پانی میں ہلکی سی نمکینی تھی اب بھی اکثر مدینہ منورہ میں پانی باہر سے لایا جاتا ہے۔ بعض گڑھے کنوئیں معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں پانی باہر سے لاکر بھرا جاتا ہے،لوگ اسے پیتے ہیں مگر اب عمومًا وہاں کا پانی بہت شیریں اور نہایت ہلکا زود ہضم ہے،اب تو مدینہ کا سا پانی اور وہاں کا سا گوشت روئے زمین میں کہیں نہیں۔
۲
؎یہ جگہ جانب مکہ معظمہ واقع ہے مگر اب راستہ میں نہیں پڑتی۔حضرات صحابہ کرام حضور انور کے لیے اپنے دور دراز فاصلہ سے میٹھا پانی اس قدر لاتے تھے کہ حضور سرکار اکثر وہ ہی پانی پیتے تھے۔بعض مریدین اپنے پیروں کے لیے دور سے ان کی پسندیدہ سبزی لاکر حاضرکرتے ہیں اس خدمت کی اصل یہ ہی حدیث ہے کہ حضرات صحابہ دو دن کی راہ سے میٹھا پانی حضور کے لیے لاتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4284