Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4273

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ وَعَلٰى يَسَارِهٖ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِينِهٖ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَأَعْطَى الأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَنْ يَمِينِهٖ ثُمَّ قَالَ: " الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ وَفِي رِوَايَةٍ: الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ أَلاَ فَيَمِّنُوْا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: حلبت لرسول الله صلى الله عليه وسلم شاة داجن وشيب لبنها بماء من البئر التي في دار أنس فأعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم القدح فشرب وعلى يساره أبو بكر وعن يمينه أعرابي فقال عمر: أعط أبا بكر يا رسول الله فأعطى الأعرابي الذي عن يمينه ثم قال: " الأيمن فالأيمن وفي رواية: الأيمنون الأيمنون ألا فيمنوا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھریلو بکری دوہی گئی ۱؎اور اس کا دودھ اس کنویں کے پانی سے ملایا گیا جو حضرت انس کے گھر میں ہے ۲؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیالہ پیش کیا گیا آپ نے پیا اور آپ کے بائیں ابوبکر صدیق تھے آپ کے دائیں ایک بدوی ۳؎حضرت عمر نے کہا یارسول اللہ ابوبکر کو دیجئے ۴؎حضور نے اس بدوی کو دیا جو آپ کے داہنے تھا پھر فرمایا داہنا پھر داہنا اور ایک روایت میں ہے کہ داہنے پھر داہنے خبردار داہنے کا خیال رکھو ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎داجنکے معنی ابھی کچھ پہلے عرض کردیئے گئے جو بکری گھر پر چارہ سے پالی جائے وہداجنہے جو باہر چر کر آوے وہشاۃتو ہے مگرداجننہیں۔
۲
؎یعنی کچی لسی تیار کی گئی،اس کنویں کا نام اس لیے بتایا گیا تاکہ آئندہ مسلمان اس کنوئیں کا پانی برکت کے لیے پئیں،زائرین مدینہ تمام ان کنوؤں کا پانی پیتے ہیں جن سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا یا غسل کیا ہے بیر عبن،بیرشمس،بیر بضاعہ وغیرہ۔
۳
؎ان خوش نصیب بدوی کا نام معلوم نہ ہوسکا بہرحال مدینہ کے چاند بیچ میں جلوہ گر تھے اور یہ تارے داہنے بائیں تھےرضی اللہ عنہم اجمعین۔
۴
؎حضرت عمر اس وقت حضور انور کے سامنے تھے آپ نے بطور مشورہ یہ عرض کیا کیونکہ جناب صدیق افضل،اعلم،اکمل،اقدم اعلیٰ تھے۔آپ کا منشاءتھا کہ سید المرسلین کی پس خوردہ لسی سید المسلمین نوش کریں۔
۵
؎یعنی کھانے پینے کی ترتیب میں قرب مرتبہ کا اعتبار نہیں قرب مکان کا لحاظ ہے اور داہنا شخص بائیں سے قریب تر ہوتا ہے۔نماز کی امامت میں اعلیٰ و افضل و اعلم کو مقدم رکھا جاتا ہے،یہ ترتیب عقل کے بھی مطابق اور قرین قیاس ہے۔دائرہ کی گردش داہنی طرف سے ہوتی ہے طواف کعبہ میں سنگِ اسود چومنے کے بعد داہنے چلتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4273